انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 70

انوار العلوم - جلد نجات کے متعلق یاد اس جگہ ایک حدیث کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ صوفیاء اس کے حدیث کا ایک حدیث کا مطلب متعلق بڑے چکر میں پڑے ہیں اور اسے حل نہیں کر سکے ۔ حدیث یہ ہے۔ - إِذَا سَمِعْتُمْ بِجَبَلٍ زَالَ عَنْ مَكَانِهِ فَصَدِّقُوهُ وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَجُلِ تَغَيَّرَ عَنْ خُلُقِهِ فَلَا تُصَدِّقُوا به ۲۵ یعنی جب یہ سنو کہ پہاڑ اپنی جگہ کے بل گیا تو یہ ٹھیک ہو سکتا ہے مگر جب یہ سنو کہ کسی نے اپنی طبیعت کو چھوڑ دیا تو یہ غلط ہے۔ اس کے متعلق سوال ہو سکتا ہے کہ جب کوئی انسان طبیعت کو چھوڑ نہیں سکتا تو پھر میلان گناہ بھی نہیں جا سکتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ جو آیا ہے کہ طبیعت کے چھوڑنے کو تسلیم نہ کرو اس کے دو معنی ہیں۔ ایک تو فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمْرًا سے حل ہو جاتے ہیں یعنی رسول کریم نے بتایا کہ کبھی یہ نہیں ماننا چاہئے کہ یک دم کسی کی طبیعت بدل گئی رات کو تو ایک شخص پاکباز سویا مگر صبح کو اٹھ کر خدا پر افتراء کرنے لگ جائے یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ ایسے تغیرات لمبے عرصہ کے بعد ہوا کرتے ہیں۔ دوسرے اس کے معنی یہ ہیں کہ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ انسان گندے سے نیک نہیں ہو سکتا اور نیک سے گندہ نہیں ہو سکتا بلکہ اس حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ اصول اخلاق بدل نہیں سکتے ۔ مثلا جو شخص نرم طبیعت کا ہو وہ سخت نہیں ہو سکتا اور جو سخت طبیعت کا ہے وہ نرم طبیعت کا نہیں ہو سکتا۔ یا مثلا جو شخص طبعی طور پر سیاست سے میلان رکھتا ہے وہ عمدہ جرنیل نہیں ہو سکتا اور جو کلی طور پر جنگی معاملات کی طرف میلان رکھتا ہے وہ سیاست کی طرف جھک نہیں سکتا۔ غرض مشق سے محنت سے عادت سے خواہ کسی قدر ہی کوئی دوسرے پیشہ کی طرف توجہ کرے وہ ایسا اعلیٰ اس فن میں نہیں ہو سکتا جس قدر کہ وہ اس فن میں ہو سکتا ہے جس سے وہ طبعی میلان رکھتا ہے۔ اور اس میں یہ سیاسی سبق دیا ہے کہ جب حکومت مسلمانوں کو ملے تو ان کو چاہئے افسر مقرر کرتے وقت ان کی طبائع کو دیکھ لیا کریں کہ ان کا میلان کس طرف ہے۔ ورنہ یہ مراد نہیں کہ نیک بد اور بد نیک نہیں ہو سکتا کیونکہ اول تو یہ تعلیم قرآن کے خلاف ہے پھر مشاہدہ کے خلاف ہے۔ اور یہ بات بھی ہے کہ نیکی بدی خلق نہیں ہے نیکی بدی تو طبیعی اخلاق کے صحیح یا بد استعمال کا نام ہے اور اس حدیث میں ان طبعی قوتوں کے بدلنے کو مشکل قرار دیا ہے جو انسان کی پیدائش کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں نہ کہ ان کے صحیح یا غلط استعمال کو ۔