انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 69

انوار العلوم - جلدے ५१ ۲۱ نجات پاس تک نہ پھٹکا۔ پھر ان کے متعلق صديقًا نَبِيًّا " آیا ہے۔ اور صدیق اس کو کہتے ہیں جو دل میں بھی ویسا ہی ہو جیسا ظاہر میں ۔ یہ تو وہ وجود ہیں جن کے متعلق ثابت ہے کہ گناہ سے پاک ہیں مگر قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ ایسے وجو د بھی گناہ سے پاک ہو سکتے ہیں جو پہلے گنہگار تھے ۔ چنانچہ فرماتا ہے ۔ آیا یهَا الَّذِينَ امَنُوا إِن تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانَا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيَاتِكُمْ وَيَغْفِرُ لَكُمْ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ العظيم ۲۲ یعنی اے مسلمانو! اگر تم اللہ تعالیٰ کا خوف رکھو اور اس سے مدد مانگو تو وہ تمہارے لئے تمہاری مشکلات میں سے نکلنے کا راستہ بنا دیگا اور تمہاری بد عادتوں کو دور کر دے گا اور پچھلے گناہ بھی بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ اہل بیت نبوی کے متعلق بھی فرماتا ہے۔ اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا - ۲۳۔ اللہ تعالی کا اس کے سوا اور کوئی منشاء نہیں۔ کہ تمہاری تکالیف کو دور کر دے اے اہل بیت ! اور تم کو خوب اچھی طرح پاک کردے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کی رو سے اس دنیا میں بھی انسان پاک ہو سکتا ہے۔ اب یہ سوال ہے کہ کیا میلان گناہ سے بھی نجات ہو سکتی ہے یا میلان گناہ سے نجات نہیں ؟ اسلام میلان گناہ کو بھی دور کر سکتا ہے۔ عیسائیوں کو اس بات کا بڑا دعوی ہے کہ اس بات کو ہمارے مذہب نے ہی بیان کیا ہے اور کسی نے بیان نہیں کیا مگر عجیب بات یہ ہے کہ وہ یہ اعتراض تو کرتے ہیں لیکن حق یہ ہے کہ اس مسئلہ کو جس طرح اسلام نے بیان کیا ہے اس طرح عیسائیت نے بھی بیان نہیں کیا۔ نبی تو الگ رہے خدا تعالٰی عام مومنوں کے متعلق بھی فرماتا ہے کہ ان کا میلان گناہ بھی مٹا دیا جاتا ہے۔ سورہ محمد میں آتا ہے ۔ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ كَفَرَ عَنْهُمْ سَيَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ ۲۴۔ کہ اسلام کا خداوه خدا ہے کہ وہ لوگ جو ایمان لاتے اور عمل صالح کرتے ہیں خدا ان کی بدیوں کو مٹا دیتا اور ان کے ولوں کو درست کر دیتا ہے۔ ان کے ظاہری عمل ہی درست نہیں ہو جاتے بلکہ ان کے قلوب بھی پاک ہو جاتے ہیں اور گناہ کا میلان تک جاتا رہتا ہے۔ پس رسول کریم لے تو الگ رہے آپ کے خدام کی نسبت بھی خدا تعالی کہتا ہے کہ میں ان کے دل صاف کر دیتا ہوں۔