انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 584 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 584

انوار العلوم جلدے ۵۸۴ دعوة الامير صالحہ سے غناء اور دعا سے بے توجہی اور غیرت دینی کی کمی نظر آرہی ہے حضرت اقدس نے ایک ایسی جماعت پیدا کر دی ہے جو باوجود تعلیم یافتہ ہونے کے اللہ تعالی اور اس کے رسول اور اس کے ملائکہ اور دعا اور معجزات اور کلام الہی اور حشر اور نشر اور جنت اور دوزخ پر پورا یقین رکھتی ہے اور شریعت اسلام کی حتی الوسع پابند ہے اور اس جماعت میں تلاش سے ہی کوئی آدمی ایسا ملے گا جو نمازوں کی ادائیگی میں تغافل کرتا ہو اور یہ جو کچھ کمی ہے یہ بھی ابتدائی حالت کا نتیجہ ہے اور آہستہ آہستہ دور ہو رہی ہے کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جبکہ کالجوں کے طالبعلم اور تعلیم جدید کے دلدادہ دین سے بکلی متنفر ہیں اور دین کو صرف سیاسی اجتماع کا ذریعہ خیال کرتے ہیں حضرت اقدس کے ذریعے سے ایک ایسی جماعت نو تعلیم یافتہ لوگوں کی تیار ہوتی ہے اور ہو رہی ہے جس کی سجدہ گاہیں آنسوؤں سے تر ہو جاتی ہیں اور جس کے سینے گریہ و بکا کے جوش سے ہانڈی کی طرح ابلتے ہیں اور جو اشاعت اسلام اور اعلائے کلمہ اسلام کو تمام سیاسی ترقیات اور حصولِ جاہ پر مقدم کر کے ماسوی کو اس پر قربان کر رہی ہے ۔ اس میں بہت سے دنیا کما سکتے ہیں مگر خدا کے دین کو کمزور دیکھ کر اور علمی جہاد کی ضرورت محسوس کر کے تمام امنگوں پر لات مار کر دین کی خدمت میں لگ گئے ہیں اور قلیل کو کثیر پر ترجیح دے رہے ہیں اور فاقہ کشی کو سیر شکمی سے زیادہ پسند کرتے ہیں ان کی زبانوں پر اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کا نام ہے ان کے دلوں میں اللہ تعالی اور اس کے رسول کی محبت ہے اور ان کے اعمال اللہ تعالی اور اس کے رسول کی عظمت کو ظاہر کر رہے ہیں اور ان کے چہروں سے اللہ تعالی اور اس کے رسول کا عشق ٹپک رہا ہے۔ وہ اسی دنیا میں بستے ہیں اور ان کے کان آزادی کی آوازوں سے نا آشنا نہیں ان کے دماغ آزادی کے خیالات سے ناواقف نہیں ، ان کی آنکھیں آزادی کی جد وجہد کے دیکھنے سے قاصر نہیں ، انہوں نے بھی وہ سب کچھ پڑھا اور سنا ہے جو دوسرے لوگ پڑھتے اور سنتے ہیں مگر بایں ہمہ جب انہوں نے یہ دیکھا کہ اسلام اس وقت اس قدر آزادی کا محتاج نہیں جس قدر کہ غلامی کا۔ دجالی فتنے نے جو نقصان اسلام کو پہنچایا ہے وہ اس وسیع انتظام کے ذریعہ پہنچایا ہے جو اس نے اسلام کی بیخ کنی کیلئے اختیار کیا تھا اور یہ کہ اسلام کی ترقی اس وقت صرف ایک بات چاہتی ہے کہ سب لوگ اللہ تعالی کے ہو کر ایک جھنڈے کے نیچے آجائیں۔ بڑے اور چھوٹے امیر اور غریب عالم اور جاہل اپنی اپنی تمام طاقتوں اور قوتوں کو ایک جگہ لاکر رکھ دیں اور ایک ہاتھ پر جمع ہو جائیں تا مشترکہ طور پر کفرو