انوارالعلوم (جلد 7) — Page 546
انوار العلوم جلدے ۵۴۶ دعوة الامير ہد یہ لینے کے سوا اور کسی لائق نہیں سمجھی جاتی تھی اور جس کے متعلق علم طبقات الارض کے ماہروں کا خیال تھا کہ اپنی قوت انفجار کو ضائع کر چکی ہے اور اس سے کسی تباہی کا خطرہ نہیں رہا ہے اور جس کے ارد گرد سینکڑوں سال پہلے کے بنے ہوئے بڑے بڑے قیمتی مندر موجود تھے اور ہزاروں آدمی جن کی زیارت کیلئے جاتے رہتے تھے اس ناقابل اندیشہ پہاڑی کو صاحب قدرت و جبروت ہستی کی طرف سے حکم پہنچا کہ وہ اپنے اندر ایک نیا جوش پیدا کرے اور اس کے مامور کی صداقت پر گواہی دے ۔ الہام میں جیسا کہ اس کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے ایسی جگہ زلزلے کے سب سے زیادہ تباہ کن ہونے کی خبر دی گئی ہے جہاں ایسے مکانات کثرت سے ہوں جو عارضی سکونت کیلئے ہوتے ہیں اور ایسے مکانات یا تو سرائیں اور ہوٹل ہوتے ہیں یا کیمپ کی فوجی بار کیں جن میں فوجیں آتی جاتی رہتی ہیں اور جو مستقل سکونت کیلئے نہیں ہوتیں۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ الہام عَفَتِ الدِّيَارُ مَحِلَهَا وَ مَقَامُهَا مِیں مَحِلَهَا کا لفظ مَقَامُهَا کے لفظ سے پہلے رکھنا ا مرید کو رہ بالا پر زور دینے کیلئے نہیں ہے بلکہ اس لئے ہے کہ اس مصرع میں شاعر ( حضرت لبید بن ربیعہ عامری) نے قافیہ کی پابندی کی وجہ سے لفظ محل کو لفظ مَقَام سے پہلے رکھا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو حضرت لبید کا یہ مصرع الہام کیلئے انتخاب فرمانے میں کوئی مجبوری نہیں تھی۔ وہ اس کی جگہ کوئی اور عبارت نازل فرما سکتا تھا یا چونکہ یہ مصرع اکیلا ہی الہام کیا تھا یہ کسی دوسرے الهامی مصرع کے ساتھ چسپاں نہیں تھا کہ اس کے قافیے کی رعایت مد نظر ن مد نظر ہوتی وہ رہوتی وہ اس کے الفاظ کو آگے پیچھے کر سکتا تھا۔ پس یہ الفاظ در حقیقت اس بات کے ظاہر کرنے کیلئے برقرار رکھے گئے کہ زلزلہ ایک ایسے مقام پر آئے گا جہاں کثرت سے عارضی سکونت کی عمارتیں بنی ہوئی ہیں اور جیسا کہ ظاہر ہے ظاہر ہے ایسی عمارتیں چھاؤنیوں ، سیر گاہوں اور زیارت گاہوں میں ہی زیادہ ہوتی ہیں۔ پس ایسے ہی مقامات میں سے کسی ایک میں زلزلے کے آنے کی خبر دی گئی تھی۔ ان الہامات کے شائع کرنے کے ایک عرصہ بعد جبکہ کسی کو وہم و گمان بھی نہ تھا کا نگڑے کی خاموش آتش فشاں پہاڑی جنبش میں آئی اور ۴- اپریل ۱۹۰۵ء کی صبح کے وقت جبکہ لوگ نمازوں سے فارغ ہوئے ہی تھے اس نے سینکڑوں میل تک زمین کو ہلا دیا کانگڑہ اور اس کے مندر اور اس کی سرائیں برباد ہو گئیں آٹھ میل پر دھر مسالہ کی چھاؤنی تھی اس کی بیر کیس زمین کے ساتھ مل گئیں اور ان کو ٹھیوں کی جو موسم گرما میں انگریزوں کی سکونت کیلئے تھیں اینٹ