انوارالعلوم (جلد 7) — Page 36
انوار العلوم - جلدے -५ ۳۶ تقریر جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۶۱۹۲۳ اسی طرح کام کاج بھی ایسی بات ہے۔ یہ بھی ایک قسم احسان کی ہے اور کام کاج سخاوت سے علیحدہ ہے۔ اس سے غریبوں سے مؤانست اور محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ اور ان سے تعلق ہوتا۔ ہوتا ہے ۔ ایسے کاموں کو انعام سمجھنا چاہئے جیسے جلسہ کے کام کاج ہیں۔ میں نے اپنے بچے ناصر احمد کو جلسہ کے چھوٹے موٹے کام کرنے کے لئے بھیجا تھا اگر چہ افسروں نے اسے دفتر میں لگا لیا۔ میرے خیال میں اسے مہمانوں کو روٹی کھلانے پر لگانا چاہئے تھایا اس سے بھی کوئی ادنی کام ہو تو اس پر لگانا تھا پھر وہ ترقی کرتا کرتا آگے بڑھے ۔ بہت لوگ ایسے کاموں سے بچتے ہیں مگر ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ ایسے کاموں سے اخلاق پر بہت عمدہ اثر ہوتا ہے اور بہت سی نفس کی بیماریاں دور ہو جاتی ہیں۔ کئی امیر ایسے ہوتے ہیں جو روپیہ تو دے دیتے ہیں لیکن کام کاج کرنے کے لئے اگر کہا جائے تو نہیں کر سکتے۔ آنحضرت ا خود دوسروں کے کام کر دیا کرتے تھے۔ صحابہ کی زندگیوں میں بھی اس کے بہت سے نمونے ملتے ہیں۔ پس یہ عادت بھی ڈالو کہ دوسروں کے چھوٹے موٹے کام کر دیا کرو۔ یہ باہم محبت بڑھانے کا بہت عمدہ ذریعہ ہے۔ -4 پھر ایک نیکی مظلوم کی امداد ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔ مظلوم کی امداد کہ بعض ملک اس لئے تباہ ہو گئے کہ ان میں مظلوم کی امداد نہ کی جاتی تھی ۔۔ اور آپ نے عیسائیوں کی یہ خوبی بیان فرمائی ہے کہ اگر بادشاہ ظلم کرنے لگے تو اسے روک دیتے ہیں ۔ ایک نیکی یہ بھی ہے کہ تہمت کا ذب کیا جائے۔ یعنی اگر کوئی کسی پر تهمت کا ذب تہمت لگائے تو اس کور و کر دیتا۔ ائے تو اس کو رد کر دینا چاہئے ۔ یہ بھی نیکیوں میں سے ایک نیکی ہے۔ اور تہمت کی تائید کرنا بڑا گناہ ہے۔ سورہ نور میں مومن کا خاصہ یہ بتایا گیا ہے کہ وہ تہمت کا ذب کرتا ہے اور کہتا ہے سُبْحَنَكَ هَذَا بُهْتَانَ عَظِيم ۱۸۔ پس مومن کو حسن ظنی کرنی چاہئے نہ کہ بد ظنی بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے یہ حسن ظنی کی کہ جو بات کسی نے سنائی اسے مان لیا اور بیان کرنے والے کو جھوٹا نہ سمجھا مگر ہم کہتے ہیں اس طرح تم نے بد ظنی ہی کی۔ جو شخص موجود نہ تھا اس کے خلاف بات سن کر یقین کر لینا بد ظنی ہے ۔ دیکھو زید نے ایک شخص کی شکایت تمہارے پاس آکر کی اور وہ تمہارے پاس موجود نہیں اب اگر تم زید کی بات سن کر اس پر یقین کر لیتے ہو اور جس کے متعلق وہ بات ہے اس کا بیان نہیں سنتے تو یہ بد ظنی ہے اور کسی کا عیب بیان کرنا شریعت کا جرم ہے اس لئے ایسی بات کو مان لینا حسن ظنی نہیں۔ ایسے موقع پر یہی ضروری ہے کہ