انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 35

انوار العلوم - جلدے ۳۵ تقریر جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۱۹۲۲ء بندھ جاتی ہیں اور انسان کام کرنے کے قابل ہو جاتا ہے ۔ اگر کسی کو ایک ہزار روپیہ دے دو تو اس سے اتنا فائدہ نہیں ہوتا جتنا مصیبت کے وقت ہمدردی کے اظہار سے ہوتا ہے۔ -۲- سخاوت یہ ان اعلیٰ درجہ کی نیکیوں درجہ کی تیلیوں میں سے ہے جو دوسروں سے سے تعلق رکھتی ہیں۔ - تعلیم دینا تعلیم بھی ایسی ہی کی ہے۔ اس سے یہ مراد ہے کہ لوگوں کو علم پڑھایا جائے۔ سے یہ مراد کہ لوگوں -۳ لوگوں میں یہ بہت بڑا عیب ہو گیا ہے کہ بغیر کچھ لئے کسی کو نہیں پڑھاتے اور جب میں سنتا ہوں کہ کوئی بغیر کچھ لئے کسی کو پڑھانا نہیں چاہتا تو مجھے بہت صدمہ ہوتا ہے۔ حضرت خلیفہ اول بھی ڈیوٹی مانگنے پر ناراض ہوا کرتے تھے۔ ہر ایک مومن کو چاہئے کہ کچھ نہ کچھ مفت ضرور پڑھایا کرے۔ اگر کوئی مدرس ہے تو اسے نوکری کے علاوہ مفت بھی پڑھانا چاہئے۔ تربیت تربیت بھی ان احسانوں میں سے ایک احسان ہے جو انسان دوسروں پر کر سکتا ہے اس سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہئے ۔ یہ بڑا فائدہ پہنچانے کی چیز ہے۔ حضرت مسیح موعود اس کو بڑی قدر کی نظر علاج معالجہ سے دیکھتے تھے۔ ایک دفعہ گھر میں حضرت مولوی صاحب کاز ذکر آیا تو آپ ان کا نام لیکر دیر تک الحمد لله الحمد للہ کرتے رہے۔ اور فرمایا مولوی صاحب بھی اللہ تعالٰی کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہیں ان کے ذریعے کئی غریبوں کا علاج ہو جاتا ہے ۔ علاج تو دوسروں کا ہوتا تھا مگر شکر آپ کر رہے تھے ۔ یورپ کے لوگ جو متمدن لوگ ہیں انہوں نے اس قسم کی کمیٹیاں بنائی ہوئی ہیں جن کے ممبر فرسٹ ایڈ سیکھتے ہیں یعنی ابتدائی طریق علاج - اگر کسی کو کوئی تکلیف پہنچے یا کوئی حادثہ ہو جائے تو قبل اس کے کہ ڈاکٹر آئے وہ فوری طور پر کچھ نہ کچھ علاج معالجہ کرتے ہیں۔ مگر مجھے افسوس آتا ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ اس طرح نہیں کرتے ۔ ہماری جماعت کے لوگوں کو سب کاموں میں حصہ لینا چاہئے۔ مثلاً کسی کو چوٹ لگے تو اس کی مدد کرنا ڈوبتے کو بچانا مصیبت کے وقت امداد دینا ہر جگہ اس قسم کا انتظام ہونا چاہئے۔ یورپ کے لوگ تو اس قسم کی باتیں محض اپنے نفس کے ماتحت کرتے ہیں پھر کس قدر افسوس ہے اگر مسلمان خدا تعالی سے سن کر بھی یہ کام نہ کریں۔ مصیبت میں دوسروں کے کام آنا مومن کی شان ہے اور تم کوشش کرو کہ یہ روح تم میں پیدا ہو جائے۔