انوارالعلوم (جلد 7) — Page 513
انوار العلوم جلد ہے ۵۱۳ دعوة الامير تَرْسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّمَ پر فدا ہونے کو چاہتا ہے جن کے ذریعے سے یہ تعلیم ہمیں ملی۔ پانچواں اصولی علم جو آپ کو دیا گیا ہے یہ ہے کہ قرآن ذو المعانی ہے اس کے کئی بطون ہیں۔ اس کو جس عقل اور جس فہم کے آدمی پڑھیں اس میں ان کی سمجھ اور ان کی استعداد کے مطابق سچی تعلیم موجود ہے گویا الفاظ ایک ہیں لیکن مطالب متعدد ہیں اگر معمولی عقل کا آدمی پڑھے تو وہ اس میں ایسی موٹی موٹی تعلیم دیکھے گا جس کا ماننا اور سمجھنا اس کیلئے کچھ بھی مشکل نہ ہو گا اور اگر متوسط درجہ کے علم کا آدمی اس کو پڑھے گا تو وہ اپنے علم کے مطابق اس میں مضمون پائے گا اور اگر اعلیٰ درجہ کے علم کا آدمی اس کو پڑھے گا تو وہ اپنے علم کے مطابق اس میں علم پائے گا۔ غرض یہ نہ ہو گا کہ کم علم لوگ اس کتاب کا سمجھنا اپنی عقل سے بالا پائیں یا اعلیٰ درجہ کے علم کے لوگ اس کو ایک سادہ کتاب پائیں اور اس میں اپنی دلچسپی اور علمی ترقی کا سامان نہ دیکھیں۔ چھٹا اصولی علم آپ کو قرآن کریم کے متعلق یہ دیا گیا کہ قرآن کریم علاوہ روحانی علوم کے ان ضروری علوم مادیہ کو بھی بیان کرتا ہے جن کا معلوم ہونا انسان کیلئے ضروری اور ان علوم کا انکشاف زمانے کی ترقی کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے تاکہ ہر زمانے کے لوگوں کا ایمان تازہ ہو ۔ ساتواں اصولی علم آپ کو یہ دیا گیا کہ تفسیر قرآن کریم کے متعلق آپ کو وہ اصول سمجھائے گئے کہ جن کو مد نظر رکھ کر انسان تفسیر قرآن کریم میں غلطی کھانے سے محفوظ ہو جاتا ہے اور جن کی مدد سے انسان پر نئے سے نئے علوم کا انکشاف ہوتا ہے اور ہر دفعہ قرآن کریم کا مطالعہ اس کیلئے مزید لذت اور سرور کا موجب ہوتا ہے۔ آٹھواں اصولی علم آپ کو قرآن کریم کے متعلق یہ دیا گیا کہ قرآن کریم سے تمام روحانی ترقیات کے مدارج آپ کو سکھائے گئے اور جو علوم اس سے پہلے لوگ اپنی عقل سے دریافت کر رہے تھے اور بعض دفعہ غلطی کھا جاتے تھے ان کے متعلق آپ کو قرآن کریم سے علم دیا گیا اور سمجھایا گیا کہ تمام روحانی حالتیں ادنی سے لیکر اعلیٰ تک قرآن کریم نے ترتیب وار بیان کی ہیں جن پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے اور اس کے ثمرات ایمان بھی کھاتا جاتا ہے۔ یہ بات پہلے لوگوں کو میسر نہ تھی۔ کیونکہ وہ قرآن کریم کی مختلف آیات سے تو استدلال کرتے تھے مگر سب مدارج روحانیہ یکجائی طور پر ان کو قرآن کریم سے معلوم نہ تھے ۔