انوارالعلوم (جلد 7) — Page 512
انوار العلوم جلدے ۵۱۲ دعوة الامير مسائل کے اور ان سے بچنے کی ضرورت یہ سب مسائل اور ان ۔ مائل اور ان کے سوا باقی اور بہت سے مسا متعلق آپ نے قرآن کریم ہی کے ذکر کردہ عقلی اور نقلی دلائل بیان کر کے ثابت کر دیا کہ قرآن کریم پر علوم جدیدہ کی دریافت کا کوئی خراب اثر نہیں پڑ سکتا کیونکہ آپ نے بتایا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ اللہ تعالی کا فعل اور اس کا قول مخالف ہوں جو کلام اس کے مخالف ہے وہ اس کا کلام ہی نہیں اور جو اس کا کلام ہے وہ اس کے فعل کے مخالف نہیں ہو سکتا۔ ان علوم کے بیان کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس وقت صرف آپ ہی کی جماعت ہے جو ایک طرف تو علوم جدیدہ کی تحصیل میں پوری طرح لگی ہوتی ہے اور دوسری طرف سیاسی ضرورت یا نسلی تعصب کی وجہ سے نہیں بلکہ بچے طور پر تقلیدی طور پر نہیں بلکہ علی وجہ البصیرت اسلام کے بیان کردہ تمام عقائد پر یقین رکھتی ہے اور ان کی صداقت کو ثابت کر سکتی ہے ۔ باقی جس قدر جماعتیں ہیں وہ ان علوم سے بے بہرہ ہونے کی وجہ سے یا تو علوم جدیدہ کی تکذیب کر کے اور ان کے حصول کو کفر قرار دیکر اپنے خیالی ایمان کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں یا پھر ان کے اثر سے متاثر ہو کر دین کو عملاً چھوڑ بیٹھی ہیں یا ظاہر میں لوگوں کے خوف سے اظہار اسلام کرتی ہیں مگر دل میں سو قسم کے شکوک اور شبہات اسلامی تعلیم کے متعلق رکھتی ہیں۔ تیسرا اصولی علم قرآن کریم کے متعلق آپ کو یہ دیا گیا ہے کہ انسانی عقل کوئی شبہ یا وسوسہ قرآن کریم کی تعلیم کے متعلق پیدا کرے اس کا جواب قرآن کریم کے اندر موجود ہے اور آپ نے اس مضمون کو اس وسعت سے بیان کیا ہے کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ہر قسم کے وساوس اور شکوک کا جواب آپ نے قرآن کریم سے دیا ہے اور اس طرح نہیں کہ کہہ دیا ہو کہ قرآن کریم اس خیال کو رد کرتا ہے اس لئے یہ خیال مردود ہے بلکہ ایسے دلائل کے ذریعہ سے جو گوبیان تو قرآن کریم نے کئے ہیں مگر ہیں عقلی اور علمی جن کو ماننے پر ہر مذہب وملت کے لوگ مجبور ہیں ۔ چو تھا اصولی علم قرآن کریم کے متعلق آپ کو یہ دیا گیا ہے کہ اس سے پہلے لوگ عام طور پر یہ تو بیان کرتے تھے کہ قرآن کریم سب کتب سے افضل ہے مگر یہ کسی نے ثابت نہ کیا تھا کہ کتب مقدسه یا دوسری تصانیف پر اسے کیا فضیلت حاصل ہے جس کی وجہ سے وہ بے نظیر ہے اور بے مثل ہے۔ اس مضمون کو آپ نے قرآن کریم ہی کے بیان کردہ دلائل سے اس وسعت سے ثابت کیا ہے کہ بے اختیار انسان کا دل قرآن کریم پر قربان ہونے کو چاہتا ہے اور محمد