انوارالعلوم (جلد 7) — Page 510
انوار العلوم جلدے ۵۱۰ دعوة الامير نفرت ہو جائے گی اور ولوں سے ایمان نکل جائے گا اور عیش و عشرت کے سامانوں کی کثرت سے بھی لوگوں میں فساد پیدا ہو جائے گا (۱۳) وَإِذَا الْجَنَّةُ ازْلِفَتْ اور جب جنت جنت قریب کردی جائے گی یعنی اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کا فضل بھی جوش میں آئے گا اور جنت بھی قریب کر دی جائے گی ، یعنی جب فساد اور شرارت بڑھ جائے گی اور بے دینی ترقی کر جائے گی اس وقت اللہ تعالٰی اپنی طرف سے ایسا سامان کر دے گا کہ لوگوں کے ایمان تازہ ہوں اور دین کی خوبی ظاہر ہو جائے اور ان کاموں کا کرنا لوگوں کیلئے آسان ہو جائے جن کے کرنے پر جنت ملتی ہے ۔ اب آپ غور کر کے دیکھ لیں کہ کیا یہ سب نشانیاں اس زمانے کی نہیں ہیں اور کیا یہ ممکن ہے کہ ان علامات کو قیامت یا کسی اور زمانے پر لگایا جائے ۔ صرف إِذَا الشَّمْسُ كُورَت اور إِذَا النُّجُومُ أَنكَدَرَتْ کے الفاظ سے دھوکا کھا کر یہ خیال کر لینا کہ یہ باتیں قیامت کو ہوں گی کب جائز ہو سکتا ہے جبکہ اس کی باقی آیات کا قیامت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں معلوم ہوتا قیامت کو دس مہینے کی گابھن اونٹنیاں بھلا کیوں چھوڑ دی جائیں گی ؟ اگر کہا جائے کہ گھبرا کر ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اونٹنی کا کیا ذکر اس وقت تو باپ، ماں بیٹا، بیٹی، بیوی بھائی بہن سب کو چھوڑ دیا جائے گا ایسے اعلیٰ تعلقات جس وقت ٹوٹ جائیں گے اس وقت کے ذکر میں اونٹنی کے چھوڑ دینے کا ذکر بے محل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح سوال پیدا ہوتا ہے کہ وحشی کیوں اکٹھے کئے جائیں گے ؟ دریاؤں میں سے اس دن نہریں کیوں نکالی جائیں گی؟ یا یہ کہ دریا آپس میں کیوں ملائے جائیں گے اور مودودہ کے متعلق اس وقت کیوں سوال ہو گا؟ اعمال کے متعلق پرسش تو فنا کے بعد حشر اجساد کے دن ہو گی، نہ کہ جس وقت کارخانہ عالم درہم برہم ہو رہا ہو گا۔ اسی طرح ان آیات کے مابعد بھی ایسی باتوں کا ذکر ہے جو ثابت کر رہی ہیں کہ اس دنیا میں یہ سب کچھ ہونے والا ہے جیسے وَالشيلِ إِذَا عَسْعَسَ وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَس ۲۴۸۔ اور رات کی قسم جب وہ جاتی رہے گی اور صبح کی قسم جب وہ سانس لے گی یعنی طلوع ہونے لگے گی اور جبکہ شروع میں اِذَا الشَّمْسُ كُورَتْ آچکا ہے اگر اس سورۃ میں قیامت کا ہی ذکر ہو تو سورج کے لیٹے جانے کے بعد رات کس طرح چلی جائے گی اور صبح کس طرح نمودار ہونے لگے گی۔ غرض ان باتوں کا جو اس سورۃ میں بیان ہوئی ہیں قیامت کے ساتھ کچھ بھی تعلق نہیں ہاں اس زمانے کے حالات کے یہ بالکل مطابق ہیں اور گویا اس وقت کا پورا نقشہ ان میں کھینچ دیا گیا ہے پس در حقیقت اس زمانے کی خرابیوں اور مادی ترقیوں اور گناہوں کی کثرت اور پھر اللہ تعالٰی