انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 509

انوار العلوم جلدے ۵۰۹ دعوة الامير سوراخ کر دیئے جائیں گے ۔ (۴) وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ اور جب دس مہینے کی گابھن اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی۔ یعنی ایسا زمانہ آجائے گا کہ نئی سواریوں کی وجہ سے اونٹوں کی وہ قدر نہ رہے گی جو اب ہے (۵) وَإِذَا الْوُحُوضُ حُشِرَت اور جب دینی علوم سے لوگوں کو ناواقفیت ہوگی اور وہ مثل وحشیوں کے ہو جائیں گے اور اسی طرح وہ اقوام جو پہلے وحشی سمجھی جاتی تھیں جیسے یورپ کے باشندے کہ آج سے چھ سات سو سال قبل جس وقت ایشیائی لوگ نہایت مہذب اور ترقی یافتہ تھے یہ لوگ ننگے پھرتے تھے ۔ دنیا میں پھیلا دیئے جائیں گے اور دنیا کی حکومتوں پر قابض ہو جائیں گے اور یہ بھی کہ اس زمانے میں کچھ وحشی اقوام ہلاک کر دی جائیں گی کہ ان کا نام ہی باقی رہ جائے گا اور یہ عربی زبان کا محاورہ ہے کہ کہتے ہیں حشر الْوُحُوشَ أَيْ اهْلِكَتْ ایسا ہی اس زمانے میں ہوا ہے کہ آسٹریلیا اور امریکہ کے اصلی باشندے کہ ان کو کہتے بھی وحشی ہی ہیں آہستہ آہستہ اس طرح ہلاک کر دیئے گئے ہیں کہ اب ان اقوام کا ان میں نشان تک نہیں ملتا۔ پھر فرمایا کہ (۶) وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِرَتْ جب دریاؤں کو پھاڑا جائے گا یعنی ان میں سے نہریں نکالی جائیں گی اور (۷) وَإِذَا التَّفُوسُ زَوجَتْ اور جب لوگ آپس میں جمع کر دیئے جائیں گے یعنی آپس کے تعلقات کے ایسے سامان نکل آئیں گے کہ دور دور کے لوگ آپس میں ملا دیئے جائیں گے ۔ جیسے آلات ٹیلیفون ہیں کہ ہزاروں میل کے لوگوں کو آپس میں ملا کر باتیں کروا دیتے ہیں یا ریل اور تار اور ڈاک کے انتظام ہیں کہ ساری دنیا کو انہوں نے ایک شہر بنا دیا ہے (۸) (۸) وَإِذَا الْمَوْتَدَةُ سُئِلَتْ (۹) بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکیاں یا عور تیں پوچھی جائیں گی۔ یعنی مذہبی طور پر انسان کا زندہ گاڑ دینا خواہ جائز ہو مگر قوانین حکومت اس کی اجازت نہ دیں گے اور صرف مذہبی جواز کا فتوی پیش کر دینا قبول نہ کیا جائے گا۔ جیسے کہ اس زمانہ سے پہلے زمانوں میں ہو تا چلا آیا ہے (۱۰) وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ اور جبکہ کتب اور ات اور رسالہ جات پھیلائے جائیں گے، جیسا کہ آجکل ہے کہ اخبارات اور ات اور کتب کی کثرت کو دیکھ کر انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے (1) وَإِذَا السَّمَاءُ كُشِطَتْ اور جب آسمان کا چھلکا اتارا جائے گا۔ یعنی آسمانی علوم کا ظہور ہو گا ، علم ہیئت کی ترقی کے ذریعے سے بھی اور علوم قرآنیہ کے اظہار اور اشاعت کے ذریعے سے بھی (۱۲) وَإِذَا الْجَحِيمُ سُقِرَتْ اور دوزخ بھڑکا دی جائے گی یعنی نئے نئے علوم ایجاد ہوں گے جن کی وجہ سے لوگوں کو دین سے اخبارات