انوارالعلوم (جلد 7) — Page 504
انوار العلوم جلدے ۵۰۴ دعوة الامير بھی اللہ تعالٰی نے ایسی زبان میں کتب لکھنے کی توفیق دیدی جو اپنی خوبیوں میں بے مثل ہے تو اس میں لکھنے کی میں قرآن کریم کی ہتک ہو گئی اور اس کا دعوی باطل ہو گیا۔ ان لوگوں کا یہ اعتراض محض تعصب کا نتیجہ ہے ورنہ اگر یہ سوچتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ باوجود حضرت اقدس کی عربی کتب کے بے مثل ہونے کے قرآن کریم کا دعوی حق اور راست ہے اور اس کا معجزانہ رنگ موجود ہے بلکہ آگے سے بڑھ گیا ہے۔ = دنیا میں ہر ایک فضیلت دو قسم کی ہوتی ہے ، کامل فضیلت اور وہ فضیلت جو اضافی ہوتی ہے یعنی ایک فضیلت تو وہ جو بلا دوسری چیزوں کو مد نظر رکھنے کے ہوتی ہے اور ایک فضیلت وہ جو بعض اور چیزوں کو مد نظر رکھ کر ہوتی ہے اس کی مثال قرآن کریم سے ہی میں یہ پیش کرتا ہوں کہ اللہ تعالٰی بنی اسرائیل کی نسبت قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَلَمِينَ ۲۴۲۔ میں نے تم کو تمام جہان کے لوگوں پر فضیلت دی اور پھر مسلمانوں کی نسبت فرماتا ہے - كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ۲۴۳۔ تم سب ۔ سب سے بہتر امت ہو جو امت ہو جو سب لوگوں کیلئے نکالی گئی ہو تو ایک طرف بنی اسرائیل کو سب جہانوں پر فضیلت دیتا ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کو سب جہانوں پر فضیلت دیتا ہے۔ بظاہر اس بات میں اختلاف نظر آتا ہے ، لیکن اصل میں کوئی اختلاف نہیں بلکہ ایک جگہ پر تو اپنے زمانے کے لوگوں پر فضیلت مراد ہے اور دوسری جگہ اولین و آخرین پر - اسی طرح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب کو جو بے مثلیت حاصل ہے وہ انسانوں کے کلاموں کو مد نظر رکھ کر ہے اور قرآن کریم کو جو بے مثلیت عطا ہوئی ہے وہ تمام انسانی کلاموں پر بھی ہے اور خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے دوسرے کلاموں پر بھی اور ان میں حضرت اقدس کے الہامی خطبات اور آپ کی کتب بھی شامل ہیں۔ پس قرآن کریم کا بے مثل ہونا حقیقی ہے اور حضرت اقدس کی کتب کی زبان کا بے مثل ہونا اضافی ۔ پس آپ کا یہ معجزہ گو لوگوں کیلئے حجت ہے مگر قرآن کریم کی شان کا گھٹانے والا نہیں۔ میں نے اوپر بیان کیا تھا کہ آپ کے معجزہ سے قرآن کریم کے معجزہ کی شان دوبالا ہو گئی ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ بے مثلیت بھی کئی قسم کی ہوتی ہے ۔ ایک بے مثلیت ایسی ہوتی ہے کہ بے مثل کلام کو دوسرے کلاموں پر فضیلت تو ہوتی ہے مگر بہت زیادہ فضیلت نہیں ہوتی۔ پس گو اس کو افضل کہیں گے مگر دو سرے کلام بھی اس کے قریب قریب پہنچے ہوئے ہوتے ہیں جیسے کہ مثلاً گھوڑ دوڑ میں جب گھوڑے دوڑتے ہیں تو ایک گھوڑا جو اول نکلے دوسرے