انوارالعلوم (جلد 7) — Page 503
انوار العلوم جلدے ۵۰۳ دعوة الامير مقابلہ میں ویسی ہی فصیح کتب لکھیں مگر ان تحریرات کا جواب کوئی مخالف نہ لکھ سکا بلکہ بعض کتب عربوں کے مقابلہ میں لکھی گئیں اور وہ بھی جواب نہ دے سکے اور پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے چنانچہ سید رشید رضا صاحب مدیر المنار کو مخاطب کر کے بھی ایک کتاب ۲۴۰۔ لکھی گئی اور اس کو مقابلہ کیلئے بلایا گیا مگر وہ مقابلہ پر نہ آیا ۔ اسی طرح بعض اور عربوں کو مقابلہ کیلئے دعوت دی گئی، مگر وہ جرأت نہ کر سکے ۔ ہندوستان کے مولویوں نے اپنی شکست کا ان لفظوں میں اقرار کیا کہ یہ کتابیں مرزا صاحب خود نہیں لکھتے بلکہ انہوں نے عرب چھپا کر رکھے ہوئے ہیں وہ ان کتب کو لکھ کر دیتے ہیں۔ اس اعتراض سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کی کتب کی عربی زبان کے وہ بھی قائل تھے مگر ان کو یہ ؛ تھا کہ آپ خود یہ کتب نہیں لکھ سکتے اور لوگ آپ کو کتابیں لکھ کر دے دیتے ہیں اس پر آپ نے یہ اعلان کیا کہ آر کیا کہ آپ لوگ بھی عربوں اور شامیوں کی مدد سے امیوں کی مدد سے میرے مقابلہ پر کتابیں لکھ دیں دیں شک مگر باوجو د بار بار غیرت دلانے کے کوئی سامنے نہ آیا اور وہ کتب اب تک بے جواب پڑی ہیں۔ ان کتب کے علاوہ ایک دفعہ آپ کو الہام ہوا کہ آپ فی البدیہ ایک خطبہ عربی زبان میں ۲۴۱۔ حالانکہ آپ نے عربی زبان میں کبھی تقریر نہ کی تھی۔ دوسرے دن عید الاضحیٰ تھی اس الہام کے ماتحت آپ نے عید کے بعد عربی زبان میں ایک لمبی تقریر کی جو خطبہ الہامیہ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ اس تقریر کی عبارت بھی ایسی اعلیٰ درجہ کی تھی کہ عرب اور عجم پڑھ کر حیران ہوتے ہیں اور ایسے غوامض ورموز اس میں بیان کئے کہ ان کی وجہ سے اس خطبہ کی عظمت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ علمی معجزہ آپ کا نہایت زبردست معجزات میں سے ہے کیونکہ ایک تو ان معجزات پر اسے فوقیت حاصل ہے جو زیادہ اثر صرف اس وقت کے لوگوں پر کرتے ہیں جو دیکھنے والے ہوں۔ دوم اس معجزہ کا اقرار دشمنوں کی زبانوں سے بھی کرا دیا گیا ہے ۔ اب جب تک دنیا قائم ہے یہ معجزہ آپ کا بھی قائم رہے گا اور قرآن کے گا اور قرآن کریم کی طرح آپ کے دشمنوں کے خلاف رہے گا اور روشن نشان کی طرح چمکتا رہے گا۔ حجت بعض لوگ جب اس معجزہ کو دیکھ کر آپ کی صداقت کا انکار کرنے کی کوئی صورت نہیں دیکھتے تو اس پر ایک اعتراض کیا کرتے ہیں اور وہ یہ کہ اس قسم کے معجزہ کا دعویٰ کرنا قرآن کریم کہ اس سم کے معجزہ کا دعوی کرنا قرآن کریم کی ہتک ہے۔ کیونکہ قرآن کریم کا دعویٰ ہے کہ اس کی زبان بے مثل ہے ۔ اگر مرزا صاحب کو