انوارالعلوم (جلد 7) — Page 487
انوار العلوم جلدے ۴۸۷ دعوة الامير سچا مامور اللہ تعالی کی طرف سے مدد پاتا ہے اور مفتری علی الله رسوا کیا جاتا ہے اور ہلاک کیا جاتا ہے تو پھر حضرت اقدس کی صداقت میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا اور اگر باوجود اس دلیل کے آپ کی صداقت میں شبہ کیا جائے تو پھر سوال کیا جا سکتا ہے کہ دوسرے انبیاء کی صداقت کا کیا ثبوت ہے؟ میں اپنے مطلب کی وضاحت کیلئے پھر یہ کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میرا یہ مطلب نہیں کہ حضرت اقدس اس لئے بچے تھے کہ آپ پہلے کمزور تھے مگر پھر آپ کو عزت اور رتبہ حاصل ہو گیا ایسی عزتیں تو بہت سے لوگوں کو ملی ہیں۔ نادر خاں ایک کمزور آدمی تھا پھر عزت پا گیا، نپولین ایک معمولی آدمی سے دنیا کا فاتح بن گیا، مگر باوجود اس کے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ لوگ اللہ کے پیارے اور بزرگ تھے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ ا حضرت اقدس نے دعوی کیا تھا کہ آپ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہیں اگر وہ اس دعوے میں مفتری تھے اور جان بوجھ کر لوگوں کو دھوکا دے رہے تھے تو آپ کو ہلاک ہو جانا چاہئے تھا۔ کیونکہ اللہ تعالی کی سنت ہے کہ ایسے مفتری کو وہ ہلاک کرتا ہے۔ آر آر آپ کی ترقی کیلئے کوئی دنیاوی سامان موجود نہ تھے ۔ آپ کی مخالفت پر ہر ایک جماعت کھڑی ہو گئی تھی اور کوئی جماعت بھی دعوے کے وقت آپ کی اپنی نہ کہلاتی تھی جس کی مدد سے آپ کو ترقی حاصل ہوئی ہو۔ A آپ نے دنیا سے وہ باتیں منوائیں جن کے خلاف قدیم اور جدید خیالات کے لوگ تھے ۔ باوجود اس کے آپ کامیاب ہوئے اور آپ نے ایک جماعت قائم کر دی اور اپنے خیالات کو لوگوں سے منوالیا ۔ اور دشمن کے حملوں سے بچ گئے اور اللہ تعالی کی تائیدات آپ کیلئے نازل ہوئیں۔ یہ پانچ باتیں جھوٹے میں کبھی جمع نہیں ہو سکتیں۔ یہ باتیں جب بھی کسی میں جمع ہوں گی وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہو گا اور راستباز ہو گا ورنہ راستبازوں کی راستبازی کا کوئی ثبوت باقی نہیں رہے گا۔ ہاں اگر کوئی شخص مدعی مأموریت نہ ہو ۔ یعنی خواہ بالکل مدعی ہو ہی نہیں جیسے نادر خاں یا نپولین یا مدعی ماموریت نہ ہو بلکہ کسی اور بات کا مدعی ہو مثلاً جیسے خدائی کا مدعی ہو یا یہ کہ وہ رہا دیوانہ ہو وہ اس معیار کے ماتحت نہیں آتا ۔ اسی طرح ایسا عقیدہ رکھنے والا بھی کہ وہ جو کچھ کہہ