انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 480

انوار العلوم جلدے ۴۸۰ دعوة الامير کا کرے تو اس کو سزا بھی ملتی ہے اور وہ کسی صورت میں ہلاکت سے بچ نہیں سکتا چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے۔ ولَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الأَفَاوِيلِ لَا خَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الوَثِينَ ۲۱۹۔ یعنی اگر یہ رسول جان بوجھ کر ہم پر جھوٹ باندھ رہا ہوتا تو ہم اس کا دایاں بازو پکڑ لیتے اور اس کی رگ جان کاٹ ڈالتے ۔ یعنی اس کی نصرت اور تائید کا دروازہ بند کر دیتے اور اسے ہلاکت کا منہ دکھاتے ۔ اسی طرح ایک اور جگہ فرماتا ہے۔ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِابَتِهِ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّلِمُونَ ۲۲۰ اور اس سے زیادہ ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ تعالی پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھتا ہے یا اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلاتا ہے بات یہ ہے کہ ظالم کامیاب نہیں ہوتے یعنی جب کہ ظالم کامیاب نہیں ہوتا تو یہ اللہ تعالی کا گنہگار جو سب قسم کے روحانی ظالموں سے زیادہ ظالم ہے کب کامیاب ہو سکتا ہے۔ مذکورہ بالا آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قانون جاری ہیں ایک یہ کہ وہ اپنے رسولوں کی نصرت کرتا ہے اور ان کی مدد کرتا اور ان کو غلبہ دیتا ہے اور دوسرا یہ کہ جو لوگ یہ جانتے ہوئے کہ وہ اللہ تعالی پر افتراء کر رہے ہیں ایک بات جھوٹ بنا کر پیش کر دیں تو ان کو اللہ تعالی کی طرف سے مدد نہیں ملتی بلکہ وہ ہلاک کئے جاتے ہیں۔ جس سے معلوم ہوا کہ جو بات پہلے میں نے عقلاً ثابت کی تھی قرآن کریم بھی اس کی تائید کرتا ہے بلکہ اسے سنت اللہ قرار دیتا ہے۔ اس سنت الہیہ اور ازلی قانون کے مطابق ہم حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعوے پر غور کرتے ہیں تو آپ کی صداقت ہمیں روز روشن کی طرح ثابت نظر آتی ہے اور آپ کی کامیابی کو دیکھ کر اس امر میں کسی قسم کا شک و شبہ ہی نہیں رہتا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے فرستادہ اور مرسل ہیں۔ پیشتر اس کے کہ یہ دیکھا جائے کہ (i) آپ کو اللہ تعالی کی طرف سے کیا کیا نصرتیں اور تائیدیں حاصل ہوئیں یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ آپ نے کن حالات کے ماتحت دعوی کیا تھا۔ یعنی وہ کون سے سامان تھے جو آپ کی کامیابی میں محمد ہو سکتے تھے (۲) آپ کے راستے میں کیا کیا روکیں تھیں (۳) آپ کا دعوئی کسی قسم کا تھایعنی کیا دعوی بطور خود ایسی کشش رکھتا تھا جس کی وجہ سے آپ کو ظاہری سامانوں پر نظر کرتے ہوئے کامیابی کی امید ہو سکے ۔ سوال اول کا جواب یہ ہے کہ گو آپ ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور ایسا ہونا