انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 479

انوار العلوم جلد کے ۴۷۹ دعوة الامير پیاروں اور محبوبوں سے ہوا کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص دعوائے ماموریت کرتا ہے اور اس کے ساتھ اللہ تعالٰی کا سلوک محبوبوں اور پیاروں والا سلوک نہیں تو وہ جھوٹا ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ ایک شخص کو اللہ تعالٰی اپنا نائب بنا کر بھیجے اور پھر اس کے ساتھ اپنی محبت کا کوئی نمونہ نہ دکھائے اور نہ اس کی مدد کرے ۔ دنیا کے بادشاہ بھی جب کسی کو اپنا نائب بنا کر بھیجتے ہیں تو اس کی مدد کرتے ہیں اور اس کی طرف خیال رکھتے ہیں اور جب بھی اس کو ضرورت ہو اس کی نصرت کیلئے سامان بہم پہنچاتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ جس کے خزانے وسیع ہیں اور جو عالم الغیب ہے کیوں اپنے ماموروں کی مدد نہ کرے گا اور اگر کوئی شخص دعوائے ماموریت کرے اور اس کی خدا تعالیٰ کی طرف سے تائید ہو اور مدد ہو اور خاص نصرت اللہ تعالی کی اس کو پہنچے تو وہ شخص سچا اور راستباز ہے کیونکہ جس طرح یہ ممکن نہیں کہ ایک راستباز کو اللہ چھوڑ دے اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ ایک جھوٹے اور شریر سے اللہ تعالیٰ مؤاخذہ نہ کرے اور وہ اس کے بندوں کو گمراہ کرتا پھرے اور یہ بات تو اور بھی خلاف عقل ہے کہ ایسے جھوٹے کی اللہ تعالی مدد کرے اور اس کیلئے اپنی نصرت کے دروازے کھول دے ۔ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے ۔ كَتَبَ اللَّهُ لَا غُلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِى إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عزيز ۲۲۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پر فرض کر دیا ہے کہ وہ اور اس کے رسول ہمیشہ غالب رہیں گے وہ قوت والا اور غالب ہے۔ پس اس نے اپنی قوت اور غلبہ کے اظہار کیلئے یہ قانون بنا دیا کہ جب اس کا کلام لے کر اس کے رسول مبعوث ہوں تو وہ ان کو غلبہ دے کیونکہ اگر وہ ان کو غالب نہ کرے تو اس کی قوت اور عزت میں لوگوں کو شبہ پیدا ہو جائے گا۔ ای طرح فرماتا ہے إِنَّا لَتَنْصُرُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الاشهاد ۲۱۷ ہم ضرور اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ہمارے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی مدد کیا کرتے ہیں اور فرماتا ہے وَالكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَى مَن يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، ۲۱۸، یعنی اللہ تعالی اپنے رسولوں کو جن لوگوں پر چاہتا ہے تسلط عطا کر دیتا ہے اللہ تعالی ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ یہ تو اس مضمون کی آیات ہیں کہ اللہ تعالٰی اپنے رسولوں کو غلبہ عطا فرماتا ہے اور ان کو دوسرے لوگوں پر تسلط عطا فرماتا ہے خواہ جسمانی اور روحانی طور پر خواہ صرف روحانی طور پر ان کے سوا قرآن کریم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی جھوٹا دعوئی ماموریت اور رسالت