انوارالعلوم (جلد 7) — Page 29
انوار العلوم - جلدے ۲۹ تقریر جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۱۹۲۲ء وہی چور تھے۔ ان میں سے ایک جلد ہی مر گیا اور دوسرا کسی اور جرم میں پکڑا گیا اور اس نے سزا پائی۔ تمہیں چاہئے کہ جس طرح دوسرے لوگ چوری میں مشق کرتے ہیں تم سراغ رسانی میں مشق کرو اور چوروں کو پکڑو خواہ وہ ہندوستان کے دوسرے کنارے چلے جائیں۔ اپنی سستی کی وجہ سے اپنے ایمانوں کو کیوں ضائع کرتے ہو۔ اسی طرح ایک عیب مار پیٹ ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر مار پیٹ کرنے لگ (4) مار پیٹ جاتے ہیں۔ بعض دفعہ کہتے ہیں فلاں نے گالی دی تھی اس لئے ہم نے مارا۔ میں کہتا ہوں اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو تم زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے ہو کہ گالی دے لو اور اگر کسی نے گندی گالی دی ہے تو تم یہ بھی نہیں کر سکتے صرف یہ کہہ دو کہ تو جھوٹا ہے اور یہ کہنا ٹھیک بھی ہے کیونکہ وہ جو گالی دیتا ہے وہ جھوٹ ہی بولتا ہے۔ بعض لوگ اگر ماریں نہ تو یہ کہہ دیتے ہیں میں یوں تمہاری خبر لوں گا میں تمہارا سر پھوڑ دوں گا مار دوں گا مگر یہ ارادہ جرم بھی جرم ہے اگر مارنا نہیں تو یہ کہنے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ کہتے ہیں کسی شخص کی کتیا نے بچے دیئے ۔ ایک شخص اس سے ایک بچہ مانگنے گیا۔ کتیا والے نے کہا بچے تو سب مر گئے ہیں لیکن اگر زندہ بھی ہوتے تو بھی تم کو نہ دیتا۔ اس نے کہا یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے ؟ اس طرح جب مار نا نہیں تو ایسے الفاظ کہنے کی کیا ضرورت ہوتی ہے۔ اس قسم کی ایک لڑائی کا ابھی تک مجھ پر اثر ہے۔ میں بازار گیا تو دو ہندو آپس میں لڑ رہے تھے بچپن کی عمر کی وجہ سے میں اس نظارہ کو شوق سے دیکھنے لگا۔ وہ ایک دوسرے کو یہی کہتے رہے کہ مار ڈالوں گا مگر مارا کسی نے نہیں اور آخر چپ ہو کر بیٹھ گئے ۔ آج تک اس واقعہ کا مجھ پر اثر ہے۔ مجھے یاد ہے کہ مجھے غصہ آتا تھا کہ اگر مارنا ہے تو ماریں یونہی منہ سے کیوں کہہ رہے ہیں۔ اس طرح دھمکی دینا بھی ایک عیب ہے۔ کیونکہ اس طرح دوسرے کو جوش دلایا جاتا ہے ممکن ہے یہ تو منہ سے ہی کہتا ر ہے اور دوسرا مار بیٹھے۔ (۸) گالی دینا گالی دینا بھی عیب ہے۔ اس سے دوسروں کو تکلیف ہوتی ہے۔ یہ طبعی بات ہے کہ انسان اپنے متعلق بری بات خواہ غلط ہی ہو نہیں سننا چاہتا۔ اس سے اسے تکلیف ہوتی ہے اس سے بچنا چاہئے ۔ بعض لوگوں کو تو گالیاں دینے کی اس قدر عادت ہوتی ہے کہ ایسی چیزوں کو گالیاں دینے لگ جاتے ہیں جو بے جان ہوتی ہیں یا گالیوں کو سمجھ نہیں سکتیں۔ مثلا ذرا جوتی نہ ملے تو گالیاں دینے لگ جاتے ہیں یا جانور کو گالیاں دینی شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے