انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 469

انوارالعلوم جلدے ۴۶۹ دعوة الامير ساتھ زنا کرنے کا ارادہ کر لیا تھا اور بالکل اس کام کیلئے تیار ہو گئے تھے حتی کہ باوجود کئی رنگ میں سمجھانے کے نہیں سمجھتے تھے آخر یعقوب کی شکل سامنے آگئی تو شرم سے اس کام سے باز رہے اسی طرح کہا جاتا ہے کہ بچپن میں انہوں نے چوری کی تھی اور ایک دفعہ انہوں نے اپنے بھائی کو اپنے پاس رکھنے کیلئے فریب بھی کیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو بلا وجہ قتل کیا اور ایک کبیرہ گناہ کے مرتکب ہوئے اور پھر فریب سے لوگوں کے مال لے کر بھاگ گئے داؤد پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے ایک شخص کی منکوحہ چھینے کیلئے اس کو نا واجب طور پر قتل کروا دیا اور اس کی بیوی سے نکاح کر لیا اور آخر اللہ تعالٰی کی طرف سے ان کو سرزنش ہوئی، سلیمان پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ وہ ایک مشرکہ پر عاشق ہو گئے اور شیطان نے ان پر تصرف کر لیا ان کی جگہ وہ خود حکومت کرنے لگا اور یہ کہ مال کی محبت ان کے دل پر غالب آگئی اور وہ عبادت الہی سے محروم رہ گئے ۔ گھوڑوں کا معائنہ کرتے ہوئے نماز پڑھنا ہی بھول گئے اور سورج ڈوب گیا، رسول کریم ال جن کے احسانات کے نیچے ان لوگوں کی گردنیں جھکی ہوئی تھیں اور ذرہ ذرہ جن کے انعامات کے نیچے دبا ہوا تھا ان پر ان لوگوں نے سب سے زیادہ حملے کئے ہیں اور آپ کی زندگی کا کوئی پہلو نہیں چھوڑا جس پر اعتراض نہ کیا ہو ، بعض نے کہہ دیا کہ آپ حضرت علی کو اپنا جانشین بنانا چاہتے تھے مگر لوگوں کے ڈر سے کچھ نہ کر سکے ، بعض نے کہا کہ آپ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ اپنی پھوپھی زاد بہن کو دیکھ کر اس پر عاشق ہو گئے اور آخر اللہ تعالیٰ نے زید سے طلاق دلوا کر ان کو آپ کے نکاح میں دیا، بعض نے کہا کہ آپ اپنی بیوی کی ایک لونڈی سے چھپ چھپ کر صحبت کیا کرتے تھے ایک دن بیوی نے دیکھ لیا تو آپ بہت نادم ہوئے اور اس بیوی سے اقرار کیا کہ پھر آپ ایسا نہیں کریں گے اور اس سے عہد لیا کہ وہ اور کسی کو نہ بتائے ، بعض کہتے ہیں کہ آپ کے دل میں کبھی کبھی یہ خواہش ہوا کرتی تھی کہ تعلیم اسلام میں نرمی ہو جائے اور ایسی تعلیم نازل ہو جسے مشرکین عرب بھی تسلیم کر لیں ان کے احساسات اور جذبات کا بھی لحاظ رکھا جائے ۔ یہ وہ خیالات ہیں جو اس وقت کے مسلمانوں میں انبیاء کی نسبت رائج ہیں اور بعض تو اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ ان کے ذاتی چال چلن سے گزر کر انہوں نے ان کے دینی چال چلن پر بھی حملہ کر دیا ہے اور کہتے ہیں کہ انبیاء در حقیقت محبان وطن تھے جنہوں نے یہ دیکھ کر کہ لوگ بلا اس عقیدے کو تسلیم کرنے کے کہ کوئی جزاء و سزا کا دن ہے اور جنت اور دوزخ حق ہیں تمدنی