انوارالعلوم (جلد 7) — Page 468
انوار العلوم جلدے دعوة الامير اپنی نادانی کے سبب سے ڈال رکھے تھے اور غیر اقوام بھی قرآن کریم کے نور کو دیکھ کر حیران رہ گئیں بلکہ لوگ اس کے نور کی چمک سے اپنی آنکھیں نہیں کھول سکتے ہیں۔ چوتھا رکن اسلام کا انبیاء پر ایمان لانا ہے اس رکن پر بھی حقیقت سے دور اور روحانیت سے عاری مسلمانوں نے عجیب عجیب رنگ آمیزیاں کر دی تھیں اور اس کی شکل کو نہ صرف بدل دیا تھا بلکہ اس کی شکل ایسی بد نما کر کے دکھائی تھی کہ اپنوں کے دل نبیوں کی محبت سے خالی ہو گئے تھے اور دوسروں کے دل ان سے نفرت کرنے لگے تھے اور سچ یہ ہے کہ جس قدر گالیاں اس وقت رسول کریم ال کو دی جا رہی ہیں ان کے ذمہ دار یہ مسلمان کہلانے والے لوگ ہیں نہ کوئی اور مسیحی اور دوسرے مخالفین اسلام اس قدر اپنی طرف سے جھوٹ بنا بنا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اعتراض نہیں کرتے جس قدر کہ ان روایات کی بناء پر اعتراض کرتے ہیں جو خود مسلمانوں سے مروی ہیں اور جن کو مسلمانوں نے تسلیم کر لیا ہے اور جن کو بطور لطائف کے وہ اپنی مجالس میں بیان کرتے ہیں اور اپنے منبروں پر جن کا ذکر کرتے ہیں، آہ! ایک باغیرت مسلمان کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ ایک مسلمان ہی کی تیار کردہ تلوار سے سرور انبیاء محمد مصطفے کے تقوی کی چادر کو ایک دشمن اسلام خاک بر سرش اپنے زعم باطل میں چاک کر رہا ہے۔ در حقیقت تو وہ خود اس منافق کے نفاق کو کھول رہا ہوتا ہے ، مگر ظاہراً سمجھا جاتا ہے کہ وہ رسول کریم ﷺ کے اخلاق کے عیوب کو ظاہر کر رہا ہے۔ نبی دنیا میں اس لئے آتے ہیں کہ نیکی اور تقوی کو قائم کریں اور ہدایت کو جاری کریں مگر مسلمانوں نے فیج اعوج کے زمانے میں نبیوں کی طرف وہ عیب منسوب کر دیئے ہیں جن کو سن کر اور پڑھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے ۔ آدم علیہ السلام سے لے کر رسول کریم ال تک ہر ایک نبی کے انہوں نے گناہ گنوائے ہیں ، آدم کو گنہگار ثابت کیا ہے کہ انہوں نے صاف اور واضح احکام الہیہ کو پس پشت ڈال دیا تھا، نوح علیہ السلام کو گناہ گار ثابت کیا ہے کہ انہوں نے باوجود منع کئے جانے کے اپنے بیٹے کیلئے دعا کی، حضرت ابراہیم کو گنہگار ثابت کیا ہے کہ انہوں نے نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِک تین جھوٹ بولے تھے حضرت یعقوب کو گناہگار ثابت کیا ہے کہ انہوں نے گویا اپنے باپ کو بستر مرگ پر دھوکا دیا تھا اور اپنے بڑے بھائی کی جگہ بھیس بدل کر اپنے باپ سے دعا حاصل کرلی تھی، یوسف علیہ السلام کو گنہگار ثابت کیا ہے کہ انہوں نے عزیز کی بیوی کے