انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 466

انوار العلوم جلدے دعوة الامير بیان کی گئی ہیں نہایت واضح دلائل سے رو کر کے بتایا کہ قرآن کریم جیسی جامع و مانع کتاب تو دنیا بھر میں نہیں مل سکتی یہ تم لوگوں کا اپنا قصور تھا کہ اس پر غور کرنا تم نے چھوڑ دیا اور اس طہارت کو حاصل نہ کیا جس کے بغیر اس کے مطالب کا القاء انسان کے قلب پر نہیں ہوتا کیونکہ لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ۲۰۵ کا ارشاد ہے ۔ پس اپنی کو تاہ فہمی کو قرآن کریم کی طرف منسوب نہ کرو اور پھر آپ نے تمام مسائل دینیہ کو قرآن کریم سے ہی استنباط کر کے پیش کیا اور دشمنان اسلام کے ہر اعتراض کو قرآن کریم سے ہی رد کر کے دکھا دیا اور ثابت کر دیا کہ علوم روحانیہ اور دینیہ اور اخلاقیہ کے متعلق قرآن کریم سے زیاہ واضح اور مفصل کتاب اور کوئی نہیں۔ اس کے الفاظ مختصر ہیں لیکن مطالب ایک بحر ذخار کی طرح ہیں کہ ایک ایک جملہ بیسیوں بلکہ سینکڑوں مطالب رکھتا ہے اور اس کے مضامین ہر زمانے کے سوالات اور شکوک کو حل کرتے ہیں اور ہر زمانے کی ضروریات کو وہ پورا کرتا ہے ۔ آپ نے اس خیال کو بھی رو کیا کہ قرآن کریم تقدیم و تاخیر سے بھرا پڑا ہے اور بتایا کہ قرآن کریم کے الفاظ اپنی اپنی جگہ پر ایسے واقع ہیں کہ ان کو ہرگز ان کی جگہ سے ہلایا نہیں جا سکتا۔ لوگ اپنی نادانی سے اس میں تقدیم و تأخیر سمجھ لیتے ہیں ورنہ اس میں جو کچھ جس جگہ رکھا گیا ہے وہی وہاں درست بیٹھتا ہے اور اسی جگہ پر اس کے رکھنے سے وہ خوبی پیدا ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ پیدا کرنا چاہتا ہے اور آپ نے قرآن کریم کے مختلف مقامات کی تشریح کر کے اس مضمون کی صحت کو ثابت کیا اور ان لوگوں کے وسوسہ کو رد کیا جو اپنی کم علمی کی وجہ سے تقدیم و تأخیر کے چکر میں پڑے ہوئے تھے۔ آپ نے اس بات پر بھی جرح کی کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں اسرائیلی قصوں کو بھر دیا گیا ہے اور بتایا کہ محض بعض واقعات میں مشابہت کا پیدا ہو جانا یہ ثابت نہیں کرتا کہ در حقیقت یہ دونوں باتیں ایک ہیں ۔ قرآن کریم اگر بعض واقعات کو مختلف الفاظ میں بیان کرتا ہے تو اس کے یہی معنے ہیں کہ وہ ان واقعات کو اس صورت میں قبول نہیں کرتا جس صورت میں افسانہ گو ان کو بیان کرتے ہیں اور یہ بھی بتایا کہ در حقیقت قرآن کریم افسانے کی کتاب ہے ہی نہیں وہ جو واقعات پچھلے بھی بیان کرتا ہے وہ آگے کی پیشگوئیاں ہوتی ہیں اور ان کے بیان کرنے سے یہ غرض ہوتی ہے کہ اسی طرح کا معاملہ آئندہ رسول کریم ال یا آپ کی امت کے بعض افراد سے ہونے والا ہے پس اس کی تفسیر میں یہودیوں کے قصوں اور افسانوں کو بیان کرنا اس کے