انوارالعلوم (جلد 7) — Page 465
انوار العلوم جلدے ۲۶۵ دعوة الامير تاریخی شہادت کو بلا وجہ رو نہیں کیا جاسکتا ورنہ بہت سی صداقتیں دنیا سے مفقود ہو جائیں۔ آپ نے اس خیال کی لغویت کو بھی ظاہر کیا کہ قرآن کریم رسول کریم ان کے الفاظ ہیں اور بتایا کہ قرآن کریم کا لفظ لفظ اللہ کا کلام ہے رسول کریم ا تو صرف وحی کے سنانے والے تھے نہ کہ اس کے بنانے والے ۔ یہ وسوسہ درست نہیں کہ کلام ہونٹ اور زبان چاہتا ہے اور اللہ کے ہونٹ اور زبان نہیں کیونکہ یہ قیاس مع الفارق ہے اللہ تعالیٰ تو لَيْسَ كَمِثْله شي ۲۰۴۔ ہے اس پر انسانی طاقتوں طاقتوں کا اندازہ کر کے فیصلہ نہیں دیا جا سکتا اگر کلام کلام بغیر ہونٹ کے نہیں ہو سکتا تو اسی طرح کوئی چیز بغیر ہاتھوں کے نہیں بنائی جاسکتی بلکہ مادی ہاتھوں کے نہیں بنائی جاسکتی تو کیا اللہ خالق بھی نہیں ہے؟ پس جس طرح اللہ تعالٰی بلا مادی ہاتھوں کے اس تمام کائنات کو پیدا کر سکتا ہے اسی طرح بغیر مادی ہونٹ اور زبان ہونے کے وہ اپنی مرضی کو اپنے بندے پر الفاظ میں ظاہر کر سکتا ہے اور آپ نے اپنے تجربے کو پیش کیا اور بتایا کہ یہ وہم صرف اس کوچے سے ناواقفی کی وجہ سے ہے ورنہ اللہ تعالی خود مجھ سے الفاظ میں کلام کرتا ہے پس جب کہ وہ مجھ سے الفاظ میں کلام کرتا ہے تو رسول کریم اللہ سے جو سب بنی آدم کے سردار اور اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ مقرب تھے کیا وہ الفاظ میں کلام نہ کرتا ہو گا اس سے زیادہ جاہل اور کون ہو گا جو جاہل ہو کر اس بحث میں دخل دے جو اس کے علم سے بالا ہو اور نادان ہو کر اللہ کے رازوں کو اپنی عقل سے دریافت کرنے کی کوشش کرے۔ آپ نے اس خیال کو بھی رد کیا کہ اللہ کے کلام کا ترجمہ نہیں ہو سکتا اور بتایا کہ جب تک لوگوں کو قرآن کریم کا مفہوم نہ پہنچایا جائے وہ اس کی خوبیوں سے کس طرح واقف ہوں گے ؟ بیشک خالی ترجمہ کی اشاعت ایک جرم ہے کیونکہ اس سے لوگوں کو متن سے بعد ہوتا جائے گا اور ممکن ہے کہ ترجمہ در ترجمہ سے وہ ایک وقت اصل حقیقت کو چھوڑ دیں لیکن ان لوگوں کے لئے جو عربی زبان نہیں جانتے۔ قرآن کریم کا ترجمہ اگر متن کے ساتھ ہو تو نہایت ضروری شئے ہے ، ہاں یہ ضروری ہے کہ لوگوں میں عربی زبان کو اس قدر رواج دیا جائے کہ لوگ قرآن کریم کو اس کی اصل زبان میں پڑھ کر وہ برکات حاصل کر سکیں جو کہ ترجمہ سے حاصل نہیں ہو سکتیں اور کم سے کم ہر شخص کو اس قدر حصہ قرآن کریم کا ضرور سکھا دیا جائے جو نماز میں اس کو پڑھنا پڑتا ہے۔ آپ نے اس خیال کو بھی کہ قرآن کریم ایک مجمل کتاب ہے اس میں اشارہ بعض باتیں