انوارالعلوم (جلد 7) — Page 441
انوار العلوم جلد ہے ۴۴۱ دعوة الامير اور سب مذاہب ایک دوسرے کے بزرگوں کو چھوٹا بھی کہہ رہے ہیں یہ بات کیا ہے ؟ اس جنگ کا نتیجہ یہ تھا کہ تعصب بڑھ رہا تھا اور اختلاف ترقی کر رہا تھا ایک طرف ہندو اپنے بزرگوں کے حالات کو پڑھتے تھے اور ان کی زندگیوں میں اعلیٰ درجے کے اخلاقی کمال دیکھتے تھے دوسری طرف دوسرے مذاہب کے پیروؤں سے سنتے تھے کہ وہ جھوٹے اور فریبی تھے تو ان کو ان کی عقل پر حیرت ہوتی تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ ان لوگوں کو تعصب نے اندھا کر دیا ہے ۔ دوسری طرف دوسرے مذاہب کے لوگ اپنے بزرگوں کی نسبت خلاف باتیں سن کر غم و غصہ سے بھر جاتے تھے غرض ایک ایسا لا ينحل عقدہ پیدا ہو گیا تھا جو کسی کے سلجھانے سے نہ سمجھتا تھا جو لوگ تعصب سے خالی ہو کر سوچتے تھے کہ رب العالمین خدا نے کس طرح اپنے بندوں میں سے ایک قوم کو چن لیا اور باقیوں کو چھوڑ دیا مگر اس سوال کو پیش کرنے کی کوئی جرات نہیں کر سکتا تھا کیونکہ یہ سوال اس کے مذہب کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر پھینک دیتا تھا۔ ہنوں نے اس مقدے کو بزعم خود اس طرح حل کر لیا تھا کہ سب مذاہب خدا کی طرف سے ہیں اور بمنزلہ ان مختلف راستوں کے ہیں جو ایک محل کی طرف جاتے ہیں اور ہندو مذہب سب سے افضل ہے مگر یہ عقدہ کشائی بھی دنیا کے کام کی نہ تھی کیونکہ اس پر دو بڑے زبردست اعتراض ہوتے تھے جن کا کوئی جواب نہ تھا۔ ایک تو یہ کہ اگر سب مذاہب اپنی موجودہ حالت میں خدا کی طرف سے ہیں اور خدا تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں تو پھر ان میں اصولی اختلاف کیوں ہے۔ بے شک تفاصیل میں اختلاف ہو سکتا ہے مگر اصول میں نہیں ہو سکتا۔ ایک شہر کو کئی راستے جاسکتے ہیں مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ مشرق کی طرف جانے والے راستوں میں سے بعض مغرب کی طرف سے جائیں اور بعض شمال کی طرف سے اور بعض جنوب کی طرف سے وہ تھوڑا تھوڑا چکر تو کھا سکتے ہیں مگر جائیں گے سب ایک ہی جہت کو دائمی صداقتوں میں کبھی اختلاف نہیں ہو سکتا۔ یہ مانا کہ خدا نے ایک جماعت کو ایک قسم کی عبادت کا حکم دیا اور دوسری کو دوسری قسم کی عبادت کا لیکن عقل سلیم اس امر کو تسلیم نہیں کر سکتی کہ اس نے ایک جماعت سے تو یہ کہا کہ میں ایک خدا ہوں اور دوسری سے کہا کہ میں دو ہوں (iii) (ⅰ) (ii) (iv) اور تیسری کو باپ بیٹا روح القدس کی تعلیم دی اور چوتھی کو لاکھوں بتوں میں خدائی طاقتوں کا عقیدہ سکھایا اور پانچویں کو ہر چیز کا الگ دیوتا بتایا یا یہ کہ ایک سے کہا کہ اس کی ذات بالکل ا اہل اسلام و یهود | پارسی | مسیحی ۱۷ ہنود ۷ چینی ۷۱ مسلمانوں کو