انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 423

انوار العلوم جلدے نازل ہوا ہے یا پھر وہ کبھی نازل نہ ہو گا۔ بقیہ حاشیہ صفحہ نمبر ۴۲۳ دعوة الامير سمجھتے رہے ہیں حالانکہ وہ ایک آدمی نہیں ہے کتب لغت میں دجال کے معنے یہ لکھتے ہیں اَوْ مِنَ الدَّجَّالِ بِالتَّشْدِيدِ لِلرِّفْقَةِ الْعَظِيمَةِ نُفَطِي الْأَرْضَ بِكَثْرَةِ أَهْلِهَا وَ قَبْلَ هِيَ الرِّفْقَةُ تَحْمِلُ المُتَاعَ التِّجَارَة الدَّجَالُ ١٥٢ الرِّفْقَةُ لُ الرِّفْقَةُ الْعَظِيمَةُ الْعَظِيمَةُ ١٥٧ یعنی دجال ایک بڑی جماعت کو کہتے ہیں جو زمین کو اپنی کثرت سے ڈھانک دے اور بعض لوگ اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ یہ ایسی جماعت کا نام ہے جو اسباب تجارت دنیا میں لئے پھرے اور یہ تعریف مسیحیت کے منادوں پر پوری طرح چسپاں ہوتی ہے وہ اپنی مذہبی کتب کی تجارت کے علاوہ اپنے مشن کی کامیابی کیلئے ہر قسم کے اسباب اور سامان جو لوگوں کی دلچسپی کا موجب ہوں ساتھ رکھتے ہیں اور کئی قسم کی تجارتیں مشن کے کام کے ساتھ ساتھ کیا کرتے ہیں اور اس طرح دجال کے معنے لکھے ہیں العموم العمر و ۱۵۸ یعنی ملمع ساز ساز اور مسیحی پادریوں۔ وں سے زیادہ کون ملمع ساز ہو گا جو ایک انسان کو ایسی صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کی نظروں میں خدا نظر آنے لگتا ہے باقی رہیں یہ باتیں کہ دجال کانا ہو گا اور اس کا ایک گدھا ہوگا جو بڑا قد آور ہو گا اور اس کے آگے پیچھے دھوئیں کا بادل چلے گا سو یہ سب باتیں تعبیر طلب ہیں۔ دجال کے کانے ہونے سے مراد اس کی روحانی کمزوری ہے کیونکہ دائیں طرف ہمیشہ رویا میں دین اور یمن پر دلالت کرتی ہے۔ پس دجال کے دائیں آنکھ سے کانے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ روحانیت سے بالکل کو را ہو گا اور اس کے گدھے سے مراد یہ ریل ہے جو مسیحی ممالک میں ایجاد ہوئی اس کی رفتار بھی گدھے کے مشابہ ہے اور یہ آگ اور پانی سے چلتی ہے اور اس کے آگے اور پیچھے دھوئیں کے بادل ہوتے ہیں اور مسیحی پادری اس سے فائدہ اٹھا کر ساری دنیا میں پھیل گئے ہیں۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ تو تاویلیں ہیں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت سے ثابت ہے کہ دجال کے متعلق جو اخبار ہیں وہ تاویل طلب ہیں۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابن صیاد کے دیکھنے کے لئے گئے جس کے متعلق عجیب خبریں مشہور تھیں اس سے جو باتیں آپ نے کیں ان سے معلوم ہوا کہ اس کو کچھ کچھ شیطانی القاء ہوتے ہیں سے معلوم ہوا کہ اس کو کچھ کچھ اس پر حضرت عمرؓ نے تلوار کھینچ لی اور قسم کھا کر کہا کہ یہی دجال ہے اور اسے قتل کرنا چاہا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع کیا اور فرمایا کہ اگر یہ دجال نہیں تو اس کا مار نا درست نہیں