انوارالعلوم (جلد 7) — Page 414
انوار العلوم جلدے ۴۱۴ دعوة الامير پچھلے زمانے کے ساری دنیا کے سونے سے زیادہ نکلے، چنانچہ ایک نمایاں اثر اس کا یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تجارت نہایت ترقی کر گئی ہے اور سب تجارت سونے اور چاندی کے ساتھ ہوتی ہے۔ پہلے زمانوں میں پیسوں اور کہ اور کوڑیوں پر خرید و فروخت کا مدار تھا۔ اب کوڑیوں کے تھا۔ اب کوڑیوں کو کوئی پوچھتا ہی نہیں اور بعض ملکوں میں پیسوں کو بھی نہیں جانتا۔ جیسے انگلستان میں کہ وہاں سب سے چھوٹا مروج سکہ آنے کا سکہ ہے اور امریکہ میں سب سے چھوٹا مروج سکہ دو پیسہ کا ہے اور اکثر کام ان ممالک میں تو سونے کے سکوں سے ہی ہوتا ہے۔ الله اس وقت کی مالی حالت رسول کریم ایل نے یہ بتائی ہے کہ سود بہت بڑھ جائے گا۔ چنانچہ حضرت علی سے دیلمی نے روایت کی ہے کہ قرب قیامت کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ اس وقت سود خوری زیادہ ہو جائے گی ۱۳۸۔ اور یہ بات بھی پیدا ہو چکی ہے۔ اس وقت جس قدر سود کو ترقی حاصل ہے اس کا لاکھواں بلکہ کروڑواں حصہ بھی پہلے کبھی حاصل نہیں ہوئی ۔ شازو ناور کو مستثنیٰ کر کے سب تجارتیں سود پر چلتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اگر سود نہ لیں تو کام چل ہی نہیں سکتا۔ بنکوں کی وہ کثرت ہے کہ ہزاروں کے شمار سے بھی بڑھ گئے ہیں۔ حکومتیں سو د لیتی اور دیتی ہیں، تاجر سود لیتے لیتے اور دیتے ہیں؟ ہیں ، صناع سود لیتے اور دیتے ہیں۔ امراء سود لیتے اور دیتے ہیں غرض ہر قوم کے لوگ سود پر کام چلا رہے ہیں اور یوں کہنا چاہئے کہ یہ وہ زمانہ ہے جس میں ہر شخص نے عہد کر لیا ہے کہ وہ دوسرے کے روپیہ سے اپنا کام چلائے گا اور اپنا روپیہ دوسرے کو کام چلانے کیلئے دے گا اگر ایک کروڑ کی تجارت ہو رہی ہو تو اس میں شاید چند ہزار روپیہ سود کی زد سے باہر رہے گا باقی سب کا سب سود کے چکر میں آیا ہوا ہو گا مسلمان جنہیں کہا جاتا تھا کہ اگر سود لینے سے تم باز نہیں آتے تو فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ ۳۹۔ اللہ تعالی سے جنگ کرنے کیلئے تیار ہو جاؤ ان کا بھی یہ حال ہے کہ اکثر تو سود کا نام منافع رکھ کر اسے استعمال کر رہے اور بعض اپنی کمزوری کا اقرار کر کے اس کا لین دین کر رہے ہیں۔ علماء نے عجیب و غریب توجیہیں کر کے بنکوں کے سود کے جواز کا فتوی دے دیا ہے اور یہ کہہ کر کہ کفار کے زیر حکومت ممالک میں سود لینا جائز ہے کسی قسم کے سود میں بھی روک نہیں رہنے دی اور آخری شریعت کے بعد ایک نئی شریعت کے بنانے کے مرتکب ہو گئے ہیں ان ۔ ب ان سب حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ سود کا حملہ اس زمانے میں ایسا سخت ہے کہ اس کا مقابلہ سوا ان کے جن کو خدا بچائے کوئی نہیں کر سکتا۔