انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 23

انوار العلوم - جلدے লন تقریر جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۱۹۲۲ء ہوئے تھے اٹھ بیٹھے اور فرمایا ۔ خواجہ صاحب ! آپ کو کیا پتہ ہے خدا کے شیر پر ہاتھ ڈالنا آسان نہیں۔ میں خدا کا شیر ہوں کوئی ہاتھ ڈال کر تو دیکھے ! مومن نرم مزاج ہوتا ہے مگر بزول نہیں ہوتا اور سوائے خدا کے کسی سے نہیں ڈرتا تم بھی بزدلی کو اپنے دلوں سے نکال دو۔ بعض کہیں گے کہ وہ تو بزدل نہیں مگر میں بتاتا ہوں کہ کس طرح کسی کی بزدلی اور بہادری کا پتہ لگتا ہے ۔ (1) مثلا وہ کسی جگہ ملازم ہے لیکن وہ لوگوں کو تبلیغ کرے تو افسر ناراض ہوتا ہے اس ڈر کی وجہ سے اگر وہ تبلیغ کرنے سے رکتا ہے تو بزدل ہے اگر دلیر ہوتا تو کبھی کسی کے ڈر کی وجہ سے تبلیغ سے نہ رکتا ۔ اگر ایک سپاہی چند روپوں کے بدلے میں میدان جنگ میں جان دے دیتا ہے تو یہ شخص یوں نہیں کہہ سکتا کہ نوکری جاتی ہے تو جائے مگر میں تبلیغ سے نہیں رک سکتا۔ کیا وہ خدا کے لئے نوکری نہیں قربان کر سکتا؟ اگر نہیں کر سکتا تو معلوم ہوا کہ وہ بزدل ہے دلیر نہیں ہے۔ (۲) اسی طرح اگر کوئی شخص رسوم اور بدعتوں کو لوگوں کے ڈر کی وجہ سے چھوڑ نہیں سکتا تو بزدل ہے۔ (۳) اگر کوئی چندہ دینے سے اس لئے ڈرتا ہے کہ اس کے مال میں کمی آجائے گی تو وہ بزدل ہے کیونکہ بزدل کی یہ تعریف ہے کہ جو کام اس کے ذمہ لگایا گیا ہو اسے ڈر کر چھوڑ دے ۔ اس تعریف کے ماتحت اگر تم اپنے نفسوں کا مطالعہ کرو گے تو تمہیں بآسانی معلوم ہو جائے گا کہ تم بزدل ہو یا نہیں اور جو اپنے آپ کو بزدل پائے اسے چاہئے کہ بزدلی کو چھوڑ دے اور بہادر ہے۔ پھر فخر اور خیلاء بھی ایک مرض ہے۔ اس سے بھی انسان کی روح پہلی (۷) فخر اور خیلاء حالت سے گر جاتی ہے۔ جاتی ہے کیونکہ فخر کرنے والا دوسروں کو حقیر قرار دیکر → خود بڑا بننا چاہتا ہے مگر خود گر جاتا ہے۔ بظاہر فخر کرنا معمولی بات معلوم ہوتی ہے اور لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ کیا ایسے موقع پر ہم جھوٹ بولیں اور سچ بات نہ کہیں ؟ مگر یاد رکھنا چاہیئے کہ فخریہ جو کچھ کہا جائے وہ سچ نہیں ہو سکتا اور آج تک فخر کرنے والے کبھی ایسے نہیں ہوئے جو دوسروں کو گرا کر اپنے آپ کو بڑا نہ بنانا چاہیں ۔ ایسے انز - ایسے انسان جو اپنے متعلق سب کچھ کہتے ہیں مگر ان کے لئے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ فخر کرتے ہیں وہ صرف نبی ہی ہوتے ہیں۔ پس سوائے نبیوں کے اور کوئی ایسا انسان نظر نہیں آیا کہ جو فخر بھی کرے اور دوسروں کو حقیر بھی نہ کرے اس لئے یہ بھی ایک مرض ہے اس سے بھی بچنا چاہئے ۔