انوارالعلوم (جلد 7) — Page 22
انوار العلوم - جلدے てて تقریر جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۶۱۹۲۲ ہی ضائع کر دے ۔ گوستی معمولی بات سمجھی جاتی ہے مگر اس کی وجہ سے جتنے عمل ضائع ہوتے ہیں وہ ان سے زیادہ ہوتے ہیں جو تم کرتے ہو پس چاہئے کہ تم ہر کام چستی سے کرو۔ تمہارے ذمہ بہت بڑا کام ہے اگر کوئی شخص سستی کرتا ہے تو وہ دوسروں کی گمراہی کا ذمہ دار ہے اور اگر ایک ایسا شخص پانچ سو کو ہدایت پہنچا سکتا ہے وہ دو سو کو پہنچاتا ہے اور باقی کو اپنی سستی کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہے تو ان کے متعلق وہ جواب دہ ہے۔ اسی طرح اگر ایک شخص روز تہجد کے لئے اٹھ سکتا تھا مگر ستی کی وجہ سے نہ اٹھے تو وہ کس قدر نقصان اٹھاتا ہے روحانیت اور قرب الہی میں جو ترقی تجد کے ذریعہ کر سکتا تھا اس سے محروم ہو جائے گا۔ حضرت عمر اللہ کو چستی کا اس قدر خیال ہوتا تھا کہ ایک دفعہ ایک شخص سر نیچے ڈالے آرہا تھا حضرت عمرؓ نے اس کو دیکھا اور اس کی ٹھوڑی کے نیچے مکا مار کر کہا کہ کیا اسلام مر گیا ہے کہ تو اس طرح چلتا ہے ؟ ۔ پس سستی ایک عیب ہے مومن کو چاہئے کہ اپنی چال ڈھال اور شکل و شباہت سے یہ مت ظاہر ہونے دے کہ وہ سنت ہے بلکہ یہ ظاہر کرے کہ وہ ہر کام کا اہل ہے۔ ایک دفعہ ایک شخص اکڑ کر چل رہا تھا رسول کریم اس نے اس کو دیکھ کر فرمایا خدا تعالیٰ کو یہ چال نا پسند ہے مگر اس وقت اس کا چلنا خدا کو پسند ہے کہ اس سے دشمن پر اثر پڑتا ہے۔ پس تم اپنی شکلوں اور اپنی چال ڈھال سے یہ ظاہر کر دو کہ تم چست ہو اس سے تمہارے کاموں میں بڑی ترقی ہوگی۔ چھٹی بیماری بزدلی ہے یہ ایک خطر ناک گناہ اور عیب ہے۔ عام طور پر لوگ اس (1) بزولی کے متعلق احساس نہیں رکھتے مگر یاد رکھو مومن بزدل نہیں ہوتے اور ایمان اور بزدلی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک واقعہ ہے۔ گورداسپور میں آپ کا مقدمہ تھا ایک شخص نے جو مخالف تھا مگر آر تھا مگر آپ کے خاندان سے تعلق رکھتا تھا اس نے سنا کہ مجسٹریٹ کا ارادہ بلا وجہ اذیت دینے اور ہتک کرنے کا ہے۔ اسے غیرت آئی کہ آپ مسلمان ہیں اور اسلام اسلام کی طرف سے لڑنے والے ہیں اس لئے اس نے آپ کو کہلا بھیجا کہ ہندوؤں نے مجسٹریٹ پر زور دیا ہے کہ یہ موقع ہے کہ لیکھرام کے قتل کا بدلہ لیا جائے اور خواہ ایک ہی دن قید ہو ضرور قید کر دیا جائے اور مجسٹریٹ جو ہندو ہے اس نے وعدہ کر لیا ہے اس لئے کوئی انتظام کر لو ۔ یہ بات جب خواجہ کمال الدین صاحب کو معلوم ہوئی تو ان کو بڑا خوف پیدا ہوا۔ وہ گھبرائے ہوئے حضرت مسیح موعود کے پاس آئے اور آکر یہ بات سنائی آپ اس وقت لیٹے