انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 401

انوار العلوم جلدے ۴۰۱ دعوة الامير ۱۰۲ علامات قرب قیامت میں سے ایک ظہور فحش و تفحش بھی ہے ۔ اور اسی طرح انس بن مالک سے مسلم میں روایت ہے کہ اشراط ساعت میں سے ایک ظہور زنا ہے ۔ اور ابو ہریرہ سے ابن مردویہ نے روایت کی ہے کہ اس وقت ولد الزنا کثرت سے ہو جائیں گے ۔ یہ سب قسمیں فحش کی ہم اس وقت دنیا میں موجود پاتے ہیں۔ علاوہ بڑی بدکاری کے ہم دیکھتے ہیں کہ یورپین تہذیب نے ایسا رنگ اختیار کر لیا ہے کہ اسلام نے جن امور کو بخش قرار دیا ہے وہ اس کی سوسائٹی کے نزدیک تہذیب کا جزو بن گئے ہیں مثلاً غیر عورتوں کی کمروں میں ہاتھ ڈال کرنا چنا عورتوں کے حسن و جمال کی تعریف کرنی ، غیر عورتوں کو ساتھ لے کر سیروں کو جانا وغیرہ وغیرہ۔ اس زمانے سے پہلے ان باتوں کا خیال بھی نہیں کیا جا سکتا تھا نہ عرب میں نہ کسی اور ملک میں ہندوستان باوجو د سب آثار شرک کے اس فحش سے پاک تھا۔ ایران با وجود عیش پسندی کی روایات کے اس فحش سے مبرا تھا۔ مسیحیت کا سہارا روی قوم با وجود اخلاقاً مردہ ہونے کے اس قسم کی ہوا و ہوس کی غلامی سے محفوظ تھی۔ اگر آج جو کچھ ہو رہا ہے اس کا تفصیلی نقشہ پہلے لوگوں کے سامنے بیان کر دیا جاتا تو وہ کبھی تسلیم نہ کرتے کہ کسی قوم کی قوم میں باوجود دعوائے تہذیب یہ حرکات کی جاسکتیں اور تہذیب و شائستگی کا جزو سمجھی جاسکتی ہیں۔ پہلے زمانے میں بھی ناچ اور تماشے ہوتے تھے لیکن یہ کوئی تسلیم کرنے کیلئے تیار نہ تھا کہ شریف اور تمدن کی جڑ کہلانے والے خاندانوں کی بہو بیٹیاں اس فعل کو اپنا شغل بنائیں گی اور یہ بات موجب فخر ہو گی اور عورت کی قدر و منزلت کو بڑھا دے گی اور اس کی شرافت میں کچھ نقص پیدا نہ ہونے دے گی۔ علاوہ اس فحش کے جو عام ہے بڑا بخش یعنی زنا بھی اس وقت کثرت سے ہے کہ اب وہ اکثر بلاد میں جن میں مسیحیت کا اثر ہے بطور ایک نفسانی کمزوری کے نہیں سمجھا جاتا بلکہ ایک طبعی فعل اور روز مرہ کا شغل خیال کیا جاتا ہے ۔ بیشک کنچنیاں پہلے زمانوں میں بھی ہوتی تھیں مگر یہ کس کے ذہن میں آسکتا تھا کہ کسی وقت حکومت عورتوں کو بڑی بڑی تنخواہیں دے کر فوجوں کے ساتھ رکھے گی تا فوجی سپاہیوں کی ضروریات پوری ہوں اور ان کو چھاؤنیوں سے باہر جانے کی تکلیف نہ ہو کون یہ خیال کر سکتا تھا کہ عورت اور مرد کے تعلقات ایسے وسیع ہو جائیں گے کہ عورت کا مرد کے گھر پر جانا ایک اخلاقی گناہ نہیں سمجھا جائے گا بلکہ انسانی حریت کا ایک جزو قرار دیا جائے گا۔ اور نکاح کو اس کی ذہنی غلامی کی علامت سمجھا جائے گا جیسا کہ آج فرانس اور امریکہ کے لاکھوں آدمیوں کا خیال ہے ۔ اور یہ بات کس کے ذہن میں آسکتی تھی کہ کسی وقت