انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 400

انوار العلوم جلدے دعوة الامير دین سے بالکل دور جا پڑیں گے اور وہ دین جو ان کے ایک آدمی پر نازل ہوا اور ان کے ملک میں اس نے تربیت پائی اور ان کے ملک سے پھیلا اور ان کی زبان میں جس کی الہامی کتاب اتری اور اب تک اسی زبان میں پڑھی جاتی ہے بلکہ اس کے سبب سے ان کی زبان زندہ ہے وہ اسے چھوڑ دیں گے اور باوجود عربی بولنے کے دین اسلام سے بے بہرہ ہوں گے اور قرآن کریم ان کو نفع نہ دے گا بلکہ ان کے دل ویسے ہی عرفان سے خالی ہوں گے جیسے کہ ان لوگوں کے جو قرآن کریم کے سمجھنے کی قابلیت نہیں رکھتے۔ چنانچہ دیلمی نے حضرت علی ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ اس وقت لوگوں کے دل اعاجم کی طرح ہوں گے اور زبان عربوں کی طرح ۹۷۔ یعنی عربی بولیں گے لیکن دین عربی کا ان کے دل پر اثر نہ ہو گا اس وقت یہ تغیر بھی پیدا ہے عربوں کو دین سے اس قدر بعد اور دوری ہے کہ ان لوگوں سے کم ان کو دین سے ناواقفیت نہیں ہے جو قرآن کریم کو نہ خود سمجھ سکتے ہیں اور نہ ان کو سمجھانے والا کوئی میسر ہے۔ ایک تغیر عظیم مسلمانوں کی حالت میں رسول کریم اللہ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس وقت عرب سے مذہبی آزادی اس قدر اٹھ جائے گی کہ وہاں نیک آدمی نہیں ہو سکیں گے ۔ چنانچہ حضرت علی علی" سے دیلمی نے روایت کی ہے کہ ان میں نیک لوگ پوشیدہ ہو کر پھریں گئے ہیں یہ تغیر بھی اس وقت عرب میں پیدا ہے وہاں کے لوگوں میں مذہبی رواداری بالکل باقی نہیں رہی اپنے خیالات اور رسوم کے اس قدر دلدادہ ہیں کہ خدا اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہنے والوں کی جان ان سے محفوظ نہیں ہے۔ گو یہ آفت دیگر اسلامی ممالک میں بھی نمودارہے مگر عرب پر بالخصوص افسوس ہے کہ وہاں فریضہ حج ادا کرنے کیلئے ہر ایک ذی مقدرت انسان کو بحکم الہی جانا پڑتا ہے ۔ پس ان کے تغیر حالت سے راستی کو نقصان پہنچتا ہے اور فریضہ حج کی ادائیگی کی صرف یہی صورت رہ جاتی ہے کہ جہاں تک ہو سکے انسان خاموشی سے اس فرض کو ادا کر کے واپس آجائے - إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ کاش ! اللہ تعالیٰ عرب کے لوگوں کو ہدایت دے اور وہ پھر اسی طرح علم الاسلام کے حامل ہوں جس طرح کہ تیرہ سو سال پہلے تھے ۔ مذہبی تغیرات کے بعد میں وہ علامات بتاتا ہوں جو رسول کریم اللی نے زمانہ اخلاقی حالت مسیح موعود کی اخلاقی حالت کے متعلق بیان فرمائی ہیں۔ ایک علامت رسول کریم الا نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اس وقت مخش کثرت سے پھیل جائے گا بلکہ نفحش کثرت سے پھیل جائے گا۔ لوگ نفحش پر ناز کریں گے ۔ ۹۹ ۔ چنانچہ ابن شیبہ کی روایت ہے کہ