انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 376

انوار العلوم جلدے جائیں۔ ۳۷۶ دعوة الامير آپ کے دعوے کے دلائل آپ کے دعوے کو مختصر الفاظ میں بیان کر دینے کے بعد میں اصولاً اس امر کے متعلق کچھ بیان کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ ایک مأمور من اللہ کے دعوے کی صداقت کے کیا دلائل ہوتے ہیں اور پھر یہ کہ ان دلائل کے ذریعہ سے آپ کے دعوے پر کیا روشنی پڑتی ہے کیونکہ جب یہ ثابت ہو جائے کہ ایک شخص فی الواقع مأمور من اللہ ہے اور اللہ تعالی کی طرف سے بھیجا ہوا ہے تو پھر اجمالاً اس کے تمام و عادی پر ایمان لانا واجب ہو جاتا ہے کیونکہ عقل سلیم اس امر کو تسلیم نہیں کر سکتی کہ ایک شخص خدا تعالی کا مأمور بھی ہو اور لوگوں کو دھوکا دے کر حق سے دور بھی لے جاتا ہو اگر ایسا ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کے علم پر ایک سخت حملہ ہو گا اور ثابت ہو گا کہ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذلِكَ اس نے اپنے انتخاب میں سخت غلطی کی اور ایک ایسے شخص کو اپنا مأمور بنا دیا جو دل کا ناپاک اور گندہ تھا اور بجائے حق اور صداقت کی اشاعت کے اپنی بڑائی اور عزت چاہتا اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر اپنے نفس کو مقدم کرتا تھا۔ علاوہ اس گئے کہ یہ عقیدہ عقل سلیم کے خلاف ہے قرآن کریم بھی اس کو باطل کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ مَا كَانَ لِبَشَرَانُ يُؤْتِيَهُ اللَّهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا لِي مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِكِنْ كُونُوا رَبَّانِينَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَبَ وَ بِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ وَلَا يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلِئِكَةَ وَالنَّبِيِّنَ أَرْبَابًا ايَا مُرُكُمْ بِالْكُفْرَ بَعْدَ إِذْ انْتُمْ مُسْلِمُونَ ) - یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص کو اللہ تعالٰی کتاب اور حکم اور نبوت دے کر بھیجے اور پھر وہ لوگوں سے یہ کہے کہ خدا کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ بلکہ وہ تو یہی کہے گا کہ خدا تعالیٰ کے ہو جاؤ بسبب اس کے کہ تم اللہ تعالی کا کلام لوگوں کو سکھاتے اور پڑھتے ہو اور نہ یہ ہو سکتا ہے کہ ایسا آدمی لوگوں سے یہ کہے کہ فرشتوں یا نبیوں کو رب سمجھ لو کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ وہ کوشش کر کے لو کر کے لوگوں کو مسلمان بنائے اور پھر ان کو کافر کر دے۔ غرض اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ مدعی مأموریت فی الواقع سچا ہے یا نہیں؟ اگر اس کی