انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 375

انوار العلوم جلدے ۳۷۵ دعوة الامير حضرت مرزاغلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام کا دعویٰ حضرت رت مرزا غلام احمد یہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دعویٰ تھا کہ آپ کو اللہ تعالٰی نے خلا خلق اللہ کی ہدایت اور رہنمائی کیلئے مبعوث فرمایا ہے اور یہ کہ آپ وہی مسیح ہیں جن کا ذکر احادیث میں آتا ہے اور وہی مہدی ہیں جن کا وعدہ آنحضرت اللہ کے ذریعے دیا گیا ہے اور آپ ان تمام پیشگوئیوں کے پورا کرنے والے ہیں جو مختلف مذاہب کی کتب میں ایک مصلح کی نسبت جو آخری زمانے میں ظاہر ہو گا نہ کو رہیں اور یہ کہ آپ کو اللہ تعالٰی نے اسلام کی نصرت اور تائید کیلئے بھیجا ہے اور قرآن کریم کا فہم آپ کو عنایت کیا ہے اور اس کے معارف اور حقائق آپ پر کھولے ہیں اور تقویٰ کی باریک راہوں پر آپ کو آگاہ کیا ہے اور رسول کریم اللہ کی شان اور عظمت کے اظہار کا کام آپ کے سپرد کیا ہے اور اسلام کو دیگر ادیان پر غالب کرنے کی خدمت آپ کو سونپی ہے اور آپ کو اس لئے دنیا میں بھیجا ہے تاکہ دنیا کو بتائے کہ وہ اسلام اور رسول کریم ان سے محبت رکھتا ہے اور لوگوں کا ان سے دور رہنا اور غافل رہنا اسے پسند نہیں۔ اسی طرح آپ کا یہ دعویٰ تھا کہ چونکہ رسول کریم ال تمام دنیا کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور اللہ تعالیٰ کا منشاء تھا کہ ساری دنیا کو آپ کے ہاتھ پر جمع کرے اس لئے اللہ تعالیٰ نے تمام ادیان کے گذشتہ بزرگوں کی زبان سے آخری زمانے میں اسی مذہب کے ایک گذشتہ نبی کی دوبارہ بعثت کی پیشگوئی کرادی تھی تاکہ قومی منافرت خاتم النبین علیہ السلام پر ایمان لانے میں روک نہ ہو ۔ ان پیشگوئیوں میں در حقیقت رسول کریم ال کے ایک امتی مأمور کی خبردی گئی تھی تا اس کے ذریعے سے رسول کریم ال کی تصدیق ہو کر تمام ادیان آپ کے ہاتھ پر جمع ہو جائیں ۔ چنانچہ یہ سب پیا پیشگوئیاں آپ کے وجہ کے وجود سے پوری ہو گئیں اور آپ مسیحیوں اور یہودیوں کیلئے مسیح، زردشتیوں کیلئے مسیو در بھی اور ہندوؤں کیلئے کرشن کے مثیل ہو کر نازل ہوئے تا تمام اہل مذاہب پر انہیں کی کتب سے آپ کی صداقت ثابت ہو اور پھر آپ کے ذریعے سے اسلام کی صداقت معلوم ہو کر وہ رسول کریم ال کے حلقہ غلامی میں باندھے