انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 369

انوار العلوم جلدے ۳۶۹ دعوت الامير " امت میں کھلا ہے جو رسول کریم ﷺ کی نبوت کی ظل ہو اور آپ کی نبوت کی اشاعت کیلئے اور آپ کی غلامی اور اطاعت سے حاصل ہو۔ چنانچہ اللہ تعالی سورۃ اعراف میں رسول کریم ا اور آپ ﷺ کی امت کے ذکر کے دوران میں فرماتا ہے۔ قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلُ بِهِ سُلْطَنَا وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ، وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ يُبَنِي آدَمَ إِمَّا يَا تِيْنَكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَغُضُّونَ عَلَيْكُمْ ابْتِي فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ٥٠۔ یعنی ان کو کہہ دے کہ میرے رب نے مجھ پر صرف بری باتیں جو خواہ ظاہری طور پر بری ہوں خواہ بار یک نگاہ سے ان کی برائی معلوم ہو حرام کی ہیں اور گناہ میں مبتلاء ہونا اور سرکشی کرنا جو بلا وجہ ہوتی ہے اور اللہ تعالٰی سے شرک کرنا جس کیلئے اللہ تعالی نے کوئی بھی دلیل نازل نہیں کی اور اللہ تعالی کے متعلق ایسی باتیں کہنا جن کی صداقت کا تم کو علم نہیں ہے حرام کیا ہے اور ہر ایک جماعت کیلئے ایک وقت مقرر ہے جب ان کا وقت آجاتا ہے وہ اس سے ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ اے بنی آدم ! اگر تمہارے پاس میرے رسول آویں جو تم ہی میں سے ہوں اور تمہیں میرے نشان پڑھ پڑھ کر سنائیں تو جو لوگ تقویٰ کریں گے اور اصلاح کریں گے ان کو نہ آئندہ کا ڈر ہو گا اور نہ پچھلی باتوں کا غم ہو گا اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ اس امت میں سے بھی نبی آئیں گے کیونکہ امت محمدیہ کے ذکر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہارے پاس نبی آئیں تو ان کو قبول کر لینا ورنہ دکھ اٹھاؤ گے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہاں ایما کا لفظ آیا ہے اور یہ شرط پر دلالت کرتا ہے کیونکہ حضرت آدم کے واقعہ خروج کے بعد بھی اللہ تعالٰی نے یہی لفظ استعمال فرمایا ہے علاوہ ازیں اگر اس کو شرط بھی سمجھ لیا جائے تو بھی اس سے یہ تو معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالی کے نزدیک نبوت کا سلسلہ بند نہیں کیونکہ یہ اللہ تعالی کی شان کے خلاف ہے کہ جس امر کی وہ آپ نفی کر چکا ہو اس کو شرط کے طور پر بھی بیان کرے۔ قرآن کریم کے شواہد کے علاوہ رسول کریم اس کے کلام سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ نبوت کا دروازه مطلقاً مسدود نہیں چنانچہ آنے والے مسیح کو آپ نے بار بار نبی کے لفظ سے یاد فرمایا ہے ۔ اگر آپ کے بعد کسی قسم کی نبوت بھی نہیں ہو سکتی تھی تو آپ نے مسیح کو نبی ۵۱ اللہ کہہ کر کیوں پکارا ہے۔