انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 368

انوار العلوم جلدے ۳۶۸ دعوت الامير صلحاء کا بھی ذکر ہے اور اگر مع کی وجہ سے اس آیت کے وہ معنی ہیں جو یہ لوگ کرتے ہیں تو پھر ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس امت میں کوئی صدیق بھی نہیں ہو گا بلکہ صرف بعض افراد صدیقوں کے ساتھ رکھے جائیں گے اور شہید بھی کوئی نہیں ہو گا صرف بعض لوگ شہداء کے ساتھ رکھے جائیں گے اور صالح بھی کوئی نہیں ہو گا صرف کچھ لوگ صلحاء کے ساتھ رکھے جائیں گے یا دوسرے الفاظ میں یہ کہ اس امت کے تمام افراد نیکی اور تقویٰ کے تمام مدارج سے محروم ہوں گے صرف انعام میں ان لوگوں کے ساتھ شامل کر دیئے جائیں گے جو پہلی امتوں میں سے ان مدارج پر پہنچے ہیں لیکن کیا کوئی مسلمان بھی اس قسم کا خیال دل میں لا سکتا ہے اس سے زیادہ اسلام اور قرآن اور رسول کریم ال کی ہتک کیا ہو گی کہ امت محمدیہ میں سے نیک لوگ بھی نہ ہوں بلکہ صرف چند آدمی نیک لوگوں کے ساتھ شامل کر کے رکھ دیئے جائیں۔ غرض اگر مع کے لفظ پر زور دے کر نبوت کا سلسلہ بند کیا جائے گا تو اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کے لئے صدیقیت اور شہادت اور صالحیت کا دروازہ بھی بند کرنا پڑے گا۔ اصل بات یہ ہے کہ مَعَ کے معنی یہی نہیں ہوتے کہ ایک جگہ یا ایک زمانے میں دو چیزوں کا اشتراک ہے بلکہ کبھی مَعَ درجہ میں اشتراک کیلئے بھی آتا ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے ، إِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَاصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّهِ وَاخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّهِ فَأُولَئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ وَسَوفَ يُوتِ اللهُ الْمُؤْمِنِينَ اَجْرًا عَظِيمًا ٢٩ - یعنی تحقیق منافق روزخ کے نچلے طبقے میں ہوں گے اور تو ان کا کا کسی کو مدد گار نہیں پائے گا نہیں پائے گا مگر ان میں سے وہ مستثنیٰ ہیں جنہوں نے توبہ کرلی اور اصلاح کرلی اور اللہ تعالی کو خوب مضبوط پکڑ لیا اور اپنے دین کو محض اللہ ہی کیلئے کر دیا اور عمل صالح کرنے والوں اور اللہ تعالی ہی کے ہو کے رہنے والوں اور اطاعت کو خاص کر لینے والوں کی نسبت مَعَ الْمُؤْمِنِينَ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ پس اگر مع کے معنی اس جگہ ساتھ کے لئے جائیں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ باوجود ان سب باتوں کے وہ مومن نہیں بنیں گے بلکہ صرف مومنوں کے ساتھ رکھے جائیں گے اور یہ بات بالبداہت باطل ہے۔ پس مع کے معنی کبھی درجہ کی شراکت کے بھی ہوتے ہیں اور انہیں معنوں میں أُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ کی آیت میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ قرآن کریم کے اور بھی بہت سے مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نبوت کا دروازہ اس