انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 354

انوار العلوم جلدے ۳۵۴ دعوت الامير غرض کسی نبی کے دوبارہ آنے میں آنحضرت ا کی ہتک ہے اور اس سے آپ کا وہ درجہ باطل ہو جاتا ہے جو ا ہو جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیا ہے! ہے اللہ تعالی فرماتا ہے ۔ إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ ٢٥ اللہ تعالیٰ کسی کو کوئی نعمت دے کر چھین نہیں لیا کرتا جب تک کہ خود ان کے اندر کوئی خرابی نہ پیدا ہو جائے ۔ اب اس عقیدے کو مان کر یا تو نَعُوذُ بالله یہ ماننا پڑتا ہے کہ رسول کریم ال میں کوئی تبدیلی ہو گئی ہے یا پھر یہ ماننا پڑتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے اپنا وعدہ تو ڑ دیا اور باقی لوگوں سے تو وہ یہ سلوک کرتا ہے کہ ان کو نعمت دے کر واپس نہیں لیتا مگر محمد رسول اللہ ﷺ سے اس نے اس کے خلاف سلوک کیا ہے اور یہ دونوں باتیں کفر ہیں کیونکہ ایک میں خدا تعالی کا انکار ہے اور دوسری میں اس کے رسول گا۔ پس ان وجوہ سے ہم اس قسم کے عقائد سے بیزار ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ مسیح علیہ السلام جن کی آمد کا وعدہ دیا گیا ہے اسی امت میں سے آنے والے ہیں اور یہ خدا تعالیٰ کا اختیار ہے کہ جسے چاہے کسی مقام پر ممتاز کر دے ۔ ۲۷ احادیث نبی کریم ا سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ آنے والا مسیح اس امت میں سے ہو گا۔ آنحضرت ا فرماتے ہیں لَا الْمَهْدِى إِلَّا عِيسی ۲۶۔ سوائے عیسی کے اور کوئی مہدی نہیں ۔ دوسری طرف فرماتے ہیں كَيْفَ أَنتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ تمہارا کیا حال ہو گا جب تم میں ابن مریم نازل ہو گا اور تمہارا امام تمہیں میں سے ہو گا۔ ان دونوں ارشادات نبوی کو ملا کر دیکھیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں ان کے سوا کوئی اور مہدی نہیں اور وہ اس امت کے امام ہوں گے مگر اسی امت میں سے ہوں گے کہیں باہر سے نہ آئیں گے۔ پس یہ خیال کہ مسیح علیہ السلام کوئی علیحدہ وجود ہوں گے اور مہدی علیحدہ وجود باطل خیال ہے اور لَا الْمَهْدِيُّ الَّا عِیسٰی کے خلاف ہے۔ مومن کا یہ کام ہے کہ وہ اپنے آقا کے اقوال پر غور کرے اور جو تضاد اسے بظاہر نظر آئے اسے اپنے تدبر سے دور کرے ۔ اگر رسول کریم اللہ نے ایک دفعہ یہ فرمایا ہے کہ پہلے مہدی ظاہر ہوں گے پھر حضرت عیسی علیہ السلام نازل ہوں گے جو مہدی کی اتباع میں نماز ادا کریں گے ۔ اور دوسری دفعہ یہ فرمایا ہے کہ مسیح علیہ السلام ہی مہدا السلام ہی مہدی ہیں تو کیا ہمارا یہ کام ہے کہ آپ کے قول کو رد کریں یا یہ کام ہے کہ دونوں پر غور کریں۔ اگر دونوں اقوال میں کوئی اتحاد کی صورت ہو تو اس کو اختیار کر لیں اور اگر کوئی ادنی تدبر بھی کرے گا تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ ان دونوں