انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 352

انوار العلوم جلد ہے ۳۵۲ دعوة الامير عیب اپنی نسبت منسوب ہونا پسند نہیں کرتے لیکن خدا کے رسول کی طرف ہر ایک عیب دلیری سے منسوب کرتے ہیں اس محبت کو ہم کیا کریں جو منہ تک رہتی ہے مگر دل میں اس کا کوئی اثر نہیں اور اس ولولے کو کیا کریں جو اپنے ساتھ کوئی ثبوت نہیں رکھتا۔ اگر فی الواقع لوگ رسول کریم ان سے محبت رکھتے تو ایک منٹ کیلئے بھی پسند نہ کرتے کہ ایک اسرائیلی نبی آکر آپ کی امت کی اصلاح کرے گا۔ کیا کوئی غیرت مند اپنے گھر میں سامان ہوتے ہوئے دوسرے سے مانگنے جاتا ہے یا طاقت ہوتے ہوئے دوسرے کو مدد کیلئے بلاتا ہے ۔ وہی مولوی جو کہتے ہیں کہ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ رسول کریم کی امت کیلئے اور اس کو مصائب سے بچانے کیلئے مسیح ناصری علیہ السلام آئیں گے اپنی ذاتوں کیلئے اس قدر غیرت دکھاتے ہیں کہ اگر بحث میں ہار بھی رہے ہوں تو اپنی ہار کا اقرار نہیں کرتے اور کسی دوسرے کو اپنی مدد کیلئے بلانا پسند نہیں کرتے اور اگر کوئی خود بخود ان کی مدد کیلئے تیار ہو جائے تو اس کا احسان ماننے کے بجائے اس پر ناراض ہوتے ہیں کہ کیا ہم جاہل ہیں کہ تو ہمارے منہ میں لقمہ دیتا ہے لیکن رسول کریم ﷺ کی نسبت کس بے پروائی سے بیان کرتے ہیں کہ آپ کی مدد کیلئے ایک دوسرے سلسلے سے نبی بلوایا جائے گا اور خود آپ کی قوت قدسیہ کچھ نہ کر سکے گی۔ آہ! کیا دل مر گئے ہیں یا عقلوں پر پتھر پڑ گئے ہیں کیا سب کی سب غیرت اپنے ہی لئے صرف ہو جاتی ہے اور خدا اور اس کے رسول کیلئے غیرت کا کوئی حصہ باقی نہیں رہتا کیا سب غصہ اپنے دشمنوں پر ہی صرف ہو جاتا ہے اور خدا اور اس کے رسول پر حملہ کرنے والوں کے لئے کچھ نہیں بچتا۔ ہم سے کہا جاتا ہے کہ کیوں تم ایک اسرائیلی نبی کی آمد کے منکر ہو مگر ہم اپنے دلوں کو کہاں لے جائیں اور اپنی محبت کے نقش کس طرح مٹائیں ہمیں تو محمد رسول اللہ کی عزت سے بڑھ کر کسی اور کی عزت پیاری نہیں ، ہم تو ایک منٹ کیلئے بھی یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ محمد رسول اللہ اللہ کسی اور کے ممنون احسان ہوں، ہمارا دل تو ایک منٹ کے لئے بھی اس خیال کو برداشت نہیں کر سکتا کہ قیامت کے دن جب تمام مخلوق از ابتداء تا انتہاء جمع ہوگی اور علی رُؤُوسِ الْأَشْهَادِ ہر ایک کے کام بیان کئے جائیں گے اس وقت محمد رسول ﷺ کی گردن مسیح اسرائیلی کے احسان سے جھکی جا رہی ہو گی اور تمام مخلوق کے سامنے بلند آواز سے فرشتے پکار کر کہیں گے کہ جب محمد رسول اللہ ا کی قوت قدسیہ جاتی رہی تو اس وقت مسیح اسرائیلی نے ان پر احسان کر کے جنت میں سے نکلنا اپنے لئے پسند کیا اور دنیا میں جا کر ان کی