انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 15

انوار العلوم - جلدے ۱۵ خطاب جلسہ سالانه ۲۷ دسمبر ۶۱۹۲۲ مسلمان کرتے ہیں مجھے بھی نور دیں اور وہ یہ کہ جن میرے قبضہ میں آجائے اور کوئی ایسا ٹو نا بتائیں جس سے غیب کی خبریں معلوم ہو جائیں اور پھر اس ٹونا کی قیمت بھی پوچھی ہے کہ کیا لیتے ہیں؟ یہ باتیں میں نے اس لئے بتائی ہیں نا معلوم ہو جائے کہ لوگوں کی حالت کہاں تک پہنچی ہوئی ہے اور تا بعض جاہل ایسے ہیں جو مرض کو بھی نہیں سمجھ سکتے ۔ ابھی چند دن ہوئے ایک شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا میرے لڑکے کو جن چڑھ گیا ہے اور وہ جن سکھ ہے جو کہتا ہے کہ ایک دیگ پکا کر میرے لئے نیاز چڑھاؤ۔ اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی بتا گیا ہے کہ خلیفہ صاحب سے پوچھ لینا اس پر میں نے ڈاکٹر (حشمت الله ) صاحب کو بھیجا۔ کہ جا کر جن نکال آئیں۔ جب ڈاکٹر صاحب گئے تو وہ لڑکا اسی سکھ کا نام لے اس کے سوا کچھ نہ کہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اسے گر گرانا شروع کیا اور وہ بولنے لگ گیا۔ دراصل یہ ایک بیماری ہوتی ہے بچے بھی جو قصے سنتے ہیں ان کو اپنے اوپر وارد کر لیتے ہیں ۔ اب اگر کسی پر یہ ثابت کر دیں کہ اس کو جن نہیں چڑھا بلکہ بیماری ہے تو وہ علاج کی طرف توجہ کرے گا لیکن اگر اس پر یہی بات ظاہر نہیں تو اسے علاج کی طرف بھی توجہ نہ ہو گی لیکن علاج کی طرف بھی توجہ ہو جائے تب بھی یہ سوال رہ جاتا ہے کہ علاج اس مرض کا کیا ہے ؟ مثلاً بعض لوگ ایسے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ انگریزی دوائیاں گرم خشک ہوتی ہیں ان کو استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ حضرت خلیفہ اول سناتے تھے ایک رئیس کا لڑکا بیمار تھا مجھے اس کے علاج کے لئے بلایا گیا ایک اور طبیب صاحب بھی آئے ہوئے تھے میں نے گھر والوں سے پوچھا مریض کو تھرما میٹر لگایا گیا ہے یا نہیں ؟ انہوں نے بتایا نہیں لگایا میں نے کہا کہ لگا کر دیکھ لیں۔ میری یہ بات اس طبیب نے بھی سن لی وہ کہنے لگا بس میں اب جاتا ہوں انگریزی دوائیں گرم خشک ہوتی ہیں مریض کو تکلیف ہو گی اور نام میرا ہو گا۔ میں نے اسے بہتیرا سمجھایا کہ یہ کوئی دوائی نہیں بلکہ آلہ ہے جو بغل میں یا منہ میں رکھ کر حرارت کا اندازہ لگایا جاتا ہے مگر وہ یہی کہتا رہا کہ انگریزوں کی ہر چیز گرم خشک ہوتی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جہالت کی وجہ سے بیماری کا علم ہو سے بیماری کا علم کافی نہیں جانے پر بھی انسان صحیح علاج سے محروم رہ جاتا ہے۔ لیکن علم کے بعد بھی ایک مرحلہ انسانی تدبیر کا باقی رہ جاتا ہے یعنی اس علم کا استعمال کرنا۔ مثلاً کسی شخص کو اگر معلوم ہو جائے کہ کو نین ملیریا کی اعلیٰ درجہ کی دوائی ہے تو اس علم سے اس کا بخار نہیں دور ہو جائے گا بخار اسی وقت اترے گا جب مریض کو تین کھائے گا۔ پس کسی بات کا علم ہو جانا بھی کافی نہیں جب