انوارالعلوم (جلد 7) — Page 317
انوار العلوم جلد ہے ۳۱۷ پیغام صلح میں حصہ نہیں لیا ان کو مسلمانوں نے ایسا تنگ کیا اور اس قدر نظروں سے گرایا کہ ان کی کچھ وقعت ہی باقی نہ رہنے دی اور اس طرح مسلمان نقصان اٹھا رہے ہیں۔ چوتھی بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں مذہبی روح اور مسلمانوں میں مذہبی روح پیدا ہو جذبہ پیدا کیا جائے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ مسلمان مذہب سے بہت دور جا رہے ہیں جبکہ سیاسی طور پر مذہب سے محبت کا اظہار کر رہے ہیں۔ چاہئے کہ مسلمان خود بھی مذہبی جذبات پیدا کریں اور اپنے بچوں میں بھی مذہبی روح پیدا کریں۔ تبلیغ پر دیا پانچ میں بات یہ ہے کہ تلخ اسلام پر زور دیاجائے۔ نہریں یہ اسلام پر زور دیا جائے قانون ہے کہ جو چیز بڑھنے کی طاقت رکھتی ہے اسے اگر روک دیا جائے تو وہ گرنے لگ جاتی ہے اور دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں بتائی جاسکتی جس نے بڑھنا بند کر دیا ہو اور وہ کم نہ ہونے لگ گئی ہو ۔ ہر ایک چیز جو بڑھنے سے رک جائیگی ضرور کم ہوگی یہی وجہ ہے کہ جب سے مسلمانوں نے بڑھنا چھوڑ دیا ہے اسی وقت سے کم ہو رہے ہیں۔ پس میں مسلمانوں سے کہوں گا کہ اگر وہ ترقی کرنا چاہتے ہیں تو دین کی اشاعت کریں وہ اس پر ناراض نہ ہوں کہ ہندو اپنے مذہب کی اشاعت کرتے ہیں بلکہ خود تبلیغ دین کریں اور دوسرے لوگوں کو اسلام میں داخل کریں ۔ قرآن کریم نے تبلیغ دین ہر ایک مسلمان کا فرض قرار دیا ہے چنانچہ آتا ہے۔ كُنتُمْ خَيْر أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ سے مسلمانوں کی بڑائی اور فضیلت کی وجہ یہی ہے کہ دیگر مذاہب کے لوگوں کو اسلام کی طرف لائیں۔ چھٹی بات یہ ہے کہ غرباء کی خبر گیری کی جائے ۔ یہ ا جائے ۔ یہ تمدنی طور پر غرباء کی خبر گیری کی جائے نہایت ضروری امر ہے کیونکہ جب تک تمام قوم کے افراد میں محبت اور تعلق نہ ہو اس وقت تک کوئی قوم بڑھ نہیں سکتی مگر میں افسوس کے ساتھ اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ مسلمانوں میں ایسے امراء ہیں جن کو اپنی جان کی تو فکر ہے مگر غرباء کی کوئی پرواہ نہیں۔ ایسی انجمنیں اور سوسائٹیاں ہونی چاہئیں جو غرباء کو کام سکھائیں اور پھر ان کے لئے کام نکالیں ۔ ساتویں بات یہ ہے کہ قوم میں جو ایسے لوگ ہیں جو کوئی کام نہیں اپاہجوں کی امداد ہو کر سکتے۔ مثلاً پانچ لولے لنگڑے وغیرہ ان کر سکتے۔ مثلاً اپانچ لولے لنگڑے وغیرہ ان کے لئے خاص انتظام کیا جائے ۔ اسی طرح یتیم بچوں کی پڑھائی اور تربیت کا انتظام کیا جائے رسول کریم ال اور اسلام