انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 316

انوار العلوم جلدے ۳۱۶ پیغام صلح اتحاد ہونا چاہئے مگر افسوس کہ مسلمانوں میں رواداری کا مادہ ابھی تک پیدا نہیں ہوا۔ ذرا ذرا سے اختلافات پر اپنی مجالس سے مخالف خیال والوں کو نکال دیتے ہیں۔ خلافت - خلافت کے معاملہ کو ہی دیکھو اس کے متعلق میں نے کہا تھا کہ ذرا اتنا کر دو کہ یہ مت کہو کہ سارے مسلمان سلطان ترکی کو خلیفہ مانتے ہیں بلکہ یہ کہو کہ اکثر حصہ مانتا ہے اور سارے کے سارے مسلمان سلطنت ترکی سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ اس پر ہم بھی تمہارے ساتھ ملنے کے لئے تیاری ہیں اور دوسرے مسلمان بھی جو خلیفہ نہیں مانتے اس تحریک میں شامل ہو جائیں گے مگر اس کی پرواہ نہ کی گئی اور خلیفہ نہ ماننے والوں کو الگ کر دیا گیا مگر یاد رکھنا چاہئے کہ اپنے سے الگ کرنے سے کسی قوم کو طاقت نہیں ہوا کرتی بلکہ اپنے اندر جذب کرنے سے طاقت حاصل ہوتی ہے۔ اگر خلافت کمیٹی والے میرا مشورہ قبول کرتے اور تمام مسلمانوں کی متفقہ کوشش سے کام کرتے تو موجودہ صورت سے یقیناً زیادہ کامیابی ہوتی۔ پس مسلمانوں کو چاہئے کہ مذہبی اختلاف کی وجہ سے کسی فرقہ کو جدا نہ کریں اسی طرح سیاسی اختلاف کی وجہ سے بھی علیحدہ کرنے کی پالیسی کو چھوڑ دیں۔ دیکھو انگلینڈ کی پارلیمینٹ میں ہر خیال کے ممبر جمع ہوتے ہیں یا نہیں ؟ مسلمان بھی اسی طرح ترقی کر سکتے ہیں کہ اپنی انجمن میں ہر قسم کے خیالات کے مسلمانوں کو شامل کریں اور سب لوگوں کو ایک جگہ جمع ہونا چاہئے ۔ مثلاً یہی الیکشن کا معاملہ ہے اس میں ایسا موقع بھی آیا ہے کہ ہماری جماعت کا ایک آدمی ایک حلقہ سے کھڑا ہوا۔ مگر دوسرا شخص اس سے زیادہ لائق اور موزوں کھڑا ہوا۔ تو ہم نے اپنے آدمی کو کھڑا نہ ہونے دیا اور دوسرے شخص کو اپنے ووٹ دیئے ۔ اگر ایسی ہی رواداری سب مسلمانوں میں پائی جائے تو بہت فوائد کا موجب ہو سکتی ہے۔ مگر اب اس قدر عدم رواداری پائی جاتی ہے کہ اس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ بچے لیڈر مسلمانوں کو نہیں ملتے ۔ آج جس لیڈر کو سر پر اٹھایا جاتا ہے کل اسے گالیاں دی جاتی ہیں۔ مثلاً مسٹر جناح ہی ہے یا راجہ صاحب محمود آباد ایک زمانہ تھا جب مسلمان ان کی بہت بڑی قدر کرتے اور ان کو اپنا لیڈر سمجھتے تھے مگر اب یہ حالت ہے کہ ان کو بالکل چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس کے مقابلہ میں ہندوؤں کو دیکھو پنڈت مالویہ صاحب متواتر چار سال سے اس پالیسی کی مخالفت کر رہے ہیں جو کانگریس نے تجویز کی ہے لیکن ہندو ان کی اسی طرح قدر کرتے ہیں جس طرح پہلے کرتے تھے پھر خود مسٹر گاندھی ان کی عزت کرتے تھے۔ پس ہندوؤں نے اپنے لیڈروں کی قدر قائم رکھی ہے جس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ وہ ہند ولیڈ راب گورنمنٹ کو کہہ رہے ہیں کہ ہندو ہمارے ساتھ ہیں مگر مسلمان لیڈر یہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ جنہوں نے شور و شر