انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 311

انوار العلوم جلدے ۳۱۱ پیغام صلح اسی طرح ایک گاؤں ہے جو ارد گرد کے علاقہ پر اثر رکھتا ہے اس کے دو با اثر آدمیوں کو تحصیلدار نے بلا کر کہا کہ تمہارے گاؤں میں فلاں کنواں جو سرکاری روپیہ سے بنا ہے اس کے متعلق میں کہدوں گا کہ چونکہ اس کا پانی کھاری نکلا ہے اس لئے روپیہ نہ وصول کیا جائے تم سارے گاؤں کو شدھ کرا دو۔ وہ سر کردہ لوگ تھے انہوں نے اس گاؤں کے لوگوں کو شدھ کرا دیا ۔ اب تحصیلدار نے جو کچھ کہا تھا اس کا ثبوت اس طرح ملتا ہے کہ گاؤں والوں نے اس کو ان کے متعلق درخواست دی۔ ادھر تحصیلدار نے سفارش کی کہ ان سے روپیہ نہ لیا جائے اور ادھر یہ روایت ہے کہ اس شرط پر شدھ ہونے کے لئے کہا گیا تھا۔ ایک اور جگہ ہمارے مبلغ ارتداد کو روکنے کے لئے گئے وہاں کے لوگ دوبارہ مسلمان ہو گئے لیکن وہاں تھانیدار نے جا کر لوگوں کو کہا کہ تم مجرموں میں شامل کر لئے جاؤ گے اس پر ان لوگوں نے ڈر کر کہدیا کہ ہم مسلمان نہیں ہوئے ۔ اس کے علاوہ اس علاقہ میں ایسے مضامین اور ٹریکٹ اسلام کے خلاف شائع کئے گئے جو اس قدر گندے تھے کہ مسلمان ان کو سن بھی نہیں سکتے تھے ۔ ان میں رسول کریم اے اور اسلام کو ایسی گندی اور ناپاک گالیاں دی گئیں ہیں کہ کوئی شریف انسان ان کو پڑھ نہیں سکتا۔ اس سے مسلمانوں کو جس قدر صدمہ پہنچا جائز تھا۔ اسی طرح سنگھٹن کے انتظام کو فسادات کے ساتھ ایسا قریب کر دیا گیا یعنی ملتان وغیرہ کے واقعات سے اتنا قریب شروع کیا گیا کہ مسلمانوں کو خطرہ پیدا ہو گیا کہ ہمارے مٹانے اور نقصان پہنچانے کے لئے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے۔ اگر ملتان کے فساد کے متعلق ہندو دھواں دھار تقریر میں نہ کرتے تو ملتان کا فساد ملتان تک ہی محدود رہتا مگر اس فساد کو ہندوؤں نے اتنا پھیلایا اور مالا بار کے واقعات کو اس کے ساتھ اس طرح ملا دیا کہ مسلمانوں نے سمجھا ہندو ہم کو ذلیل اور برباد کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر ستم یہ ہوا کہ دونوں قوموں میں صلح کرانے والے خود ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور اس طرح کوئی صلح کرانے والا نہ رہا۔ اس طرح فسادات اور جھگڑے پیدا ہو گئے۔ اب ان ا اختلافات کو مٹانے کے لئے جو ت مٹانے کے لئے ناکام کوششیں کوششیں کی جارہی ہیں وہ یہ ہیں کہ - (1) گورنمنٹ کے خلاف جوش پیدا کر کے سول نافرمانی کی جائے لیکن ہر ایک سول نافرمانی مخص شخص سمجھ سکتا ہے کہ جب آپس میں لڑائی ہو تو گورنمنٹ کے خلاف کون کھڑا