انوارالعلوم (جلد 7) — Page 310
انوار العلوم جلدے ٣١٠ پیغام صلح ہمارے بادشاہوں کو اس طرح گندہ اور ظالم کر کے دکھایا جاتا ہے تو اس کو غیرت آئے گی اور چونکہ نہ صرف عالمگیر اورنگ زیب کے زمانہ میں بلکہ سب مسلمان بادشاہوں کے زمانہ میں شروع سلطنت اسلامیہ سے ہندو مسلمان ہوتے چلے آئے ہیں اس لئے سب مسلمان بادشاہوں پر زبر دستی مسلمان بنانے کا الزام لگایا گیا اور ان کو ظالم اور جابر قرار دیا گیا۔ اس کے متعلق میں نے اپنے ان مبالغوں کو جو ملکانوں میں کام کرتے تھے لکھا کہ تم ان لوگوں کو کہو کہ اگر یہ بات درست ہے کہ مسلمان بادشاہوں نے تمہارے باپ دادوں کو جبرا مسلمان بنالیا تھا جو راجپوت تھے تو پھر کیا وجہ ہے کہ باقیوں کو انہوں نے جبر ا مسلمان نہ بنایا ۔ اس پر آریوں کو بہت مشکل پیش آئی اور انہوں نے یہ ڈھنگ بنایا کہ ملکانوں کو کہنے لگے ایک دفعہ مسلمان تمہارے باپ دادوں کو لڑنے کے لئے لے گئے تھے اور کنویں میں تھوک کر ان کو اس کا پانی پلا دیا تھا اس پر قوم نے ان لوگوں کو چھیک دیا تھا اور وہ مسلمان بن گئے ۔ تیسرا طریق یہ اختیار کیا گیا کہ شدھی کا مطلب مسلمانوں سے چھوت چھات کرنا بتایا گیا اس سے مسلمانوں کو غصہ آئے گایا نہ آئے گا کہ ہم سے نفرت کرائی جاتی ہے اور ہم کو ذلیل سمجھا جاتا ہے۔ اگر ملکانوں کو اپنے مذہب کی تعلیم دی جاتی تو غصہ کی کوئی وجہ نہ تھی مگر اس کے بجائے مسلمانوں سے نفرت سکھائی گئی۔ پانچویں یہ کہ لالچ سے شدھی کی گئی شدھ ہونے کے لئے روپیہ دیا گیا۔ ہمارے پاس ایسے آدمیوں کے نام اور پتے اور ثبوت موجود ہیں ان کو شدھ ہونے کے لئے روپے دیئے گئے۔ ایک آدمی نے بتایا کہ میں چار پانچ سو روپیہ شادی پر خرچ کر چکا ہوں اب چار سو روپیہ اور چاہئے مگر سا ہو کار کہتا ہے کہ شدھ ہو جاؤ تو دونگا ۔ کیا تم یہ روپیہ دے سکتے ہو ہم نے کہا کہ ہمارے پاس روپیہ نہیں ہے۔ اس پر وہ روتا ہوا چلا گیا کہ اب میں مجبور ہوں مجھ پر الزام نہ لگانا کہ کیوں شدھ ہو گیا۔ پھر ان لوگوں سے ہمارے آدمیوں پر مظالم کرائے گئے ایک شخص جو سیشن جج کے ریڈ رہیں ایک گاؤں جس کا نام ”سپار" ہے اس میں رہتے تھے ان پر جھونپڑا گر ا دیا اور گھسیٹتے گھیٹتے گاؤں سے باہر نکال دیا ۔ اس کے متعلق مقدمہ ہوا اور ملزموں نے جھوٹ بولنے پر کمر باندھ لی۔ اس پر عدالت بار بار کہتی کہ آریہ تو کہتے ہیں ہم نے ان کو شدھ کیا ہے کیا شدھ ہو کر یہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔ عدالت نے ان لوگوں کو مجرم قرار دیا اور سزا دی۔