انوارالعلوم (جلد 7) — Page 306
انوار العلوم جلدے ۳۰۶ پیغام صلح کر دیں گے لیکن جب وقتی جوش ختم ہو گیا تو یہ کہنے لگے کہ ہم کو بھی حقوق ملنے چاہئیں اور یہ ٹھیک نہیں کہ ہمارے حقوق دوسروں کے قبضے میں ہوں یہ بات ہندوؤں کو شاق گزری اور اس پر فتنہ پیدا ہو گیا۔ پانچویں بات یہ ہوئی کہ ایام شورش میں ہندوؤں کو جو عظمت حاصل ہو چکی تھی اس سے ان میں سے بعض نے ناجائز فائدہ اٹھانا شروع کر دیا ۔ میں یہ بعض ہندوؤں کے متعلق کہہ رہا ہوں اس سے ہندو بھی ناراض ہونگے اور مسلمان بھی ۔ ہندو تو اس لئے کہ بعض بھی کیوں کہا گیا ہے اور مسلمان اس لئے کہ سارے کیوں نہیں کہا مگر میں ان میں سے کسی کے خیال کی بھی پیروی کروں گا تو وہ جھوٹ ہو گا۔ اصل بات یہی ہے کہ بعض ہندو ایسے تھے نہ کہ سارے۔ ہندوؤں نے ناجائز فائدے اٹھائے پس ان بعض ہندوؤں نے اس موقع پر ناجائز فائدہ اٹھایا۔ مسٹر گاندھی چونکہ ہندوؤں میں سے تھے اور ان کی عظمت مسلمانوں میں قائم ہو چکی تھی اس لئے بعض ہندوؤں نے ان کو ہندو مذہب کی صداقت کے طور پر مسلمانوں کے سامنے پیش کیا اور اس طرح مسلمانوں کو ہندو بنانے لگے ۔ جب مسلمانوں نے دیکھا کہ ان کا دین بھی ہاتھ سے چلا تو وہ بر خلاف کھڑے ہو گئے ۔ دوسری بات ہندوؤں کی مذہبی بے صبری تھی۔ جب ہندوؤں نے دیکھا کہ وہ مسلمانوں سے بعض شرائط منوانا چاہتے ہیں جنہیں وہ نہیں مانتے تو انہوں نے کہا کہ سب مسلمانوں کو ہندو بنا لینا چاہئے تاکہ کوئی مسلمان نہ رہے۔ تیسری بات ہندوؤں کے لئے یہ ہو گئی کہ مسلمانوں نے علماء کی جو مجلس قائم کی تھی اس کے اختیارات سے ہندوؤں کو خطرہ پیدا ہو گیا۔ انہوں نے سمجھا کہ کانگریس کے سارے اختیارات اس کے ہاتھ میں چلے گئے ہیں اور وہ ہمارے حلقہ اثر سے باہر ہے ۔ ان باتوں کو مد نظر رکھ کر جب ہندوؤں نے دیکھا کہ لوگ مسلمانوں کو مٹادینے کی تجویز ایسی قربانیاں روز روز نہیں کر سکتے اور جب انہوں نے دیکھا کہ مسٹر گاندھی کی ایسی عظمت مسلمانوں میں قائم ہو گئی ہے کہ مسلمان مذہبی طور پر ان کی قدر کرتے ہیں اور یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر نبوت جاری ہوتی تو ان کو ملتی تو اس سے انہوں نے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور یہ ارادہ کیا کہ مسلمانوں کو ہندوستان سے بالکل مٹا دیا جائے مگر ان کا یہ کہنا کہ مسلمانوں کے ہندوستان سے مٹ جانے سے امن قائم ہو جائے گا بالکل غلط تھا کیونکہ