انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 305

انوار العلوم جلدے ۳۰۵ پیغام صلح دوسری بات یہ ہوئی کہ جب مقررہ مدت میں سوراج نہ ملا تو لوگ لیڈروں سے بدظن ہو گئے وہ سمجھے کہ ہم سے بے فائدہ قربانیاں کرائی گئی ہیں اور بلاوجہ خراب کیا گیا ہے۔ تیسری وجہ یہ ہوئی کہ کانگریس میں اصولی غلطیاں پیدا ہو گئیں۔ دنیا میں دو قسم کی حکومتیں ہوتی ہیں ایک شخصی اور دوسری قومی یعنی جمہوری ان کے سوا اور کوئی طریق حکومت ایسا نہیں ہوا جس سے لمبے عرصہ تک کام چلایا گیا ہو مگر کانگرس کی حکومت نہ انفرادی یعنی شخصی رہی اور نہ جمہوری جمہوری تو اس لئے نہ رہی کہ مسٹر گاندھی کے مقابلہ میں کانگریس میں کوئی بول نہ سکتا تھا جو وہ چاہتے تھے وہی کانگریس سے منواتے تھے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کانگریس جسے جمہوری سمجھا جاتا تھا وہ ٹوٹ گئی اور لوگ شخص کے پیچھے چل پڑے اس طرح شخصی حکومت ہو گئی۔ اب شخصی حکومت میں قائم مقام کا ہونا ضروری تھا جیسا کہ بادشاہ کے بعد اس کا بیٹا نامزد کیا جاتا ہے اور اگر پریزیڈنٹ ہوتا ہے تو اس کا بھی قائم مقام تجویز کیا جاتا ہے مگر کانگریس میں گو شخصی حکومت قائم ہو گئی تھی لیکن کوئی قائم مقام نہ بنایا گیا تھا اور چونکہ لوگوں کو مسٹر گاندھی کی ذات سے تعلق تھا اس لئے کسی اور اور سے ان کو ایسا تعلق نہ پیدا ہو سکا۔ اگر لوگوں کو عہدہ سے تعلق ہوتا تو عہدہ کی عزت کی جاتی۔ اور جو اس عہدہ پر مقرر ہوتا اس کی ویسی ہی عزت کی جاتی جیسے پہلے کی۔ مثلاً روزولٹ امریکہ کا پریزیڈنٹ تھا تو لوگ اس کی عزت کرتے تھے جب وہ نہ رہا اور اس کی جگہ دوسرا ہوا۔ تو اس کی عزت کرنے لگے کیونکہ اس میں عہدہ پریذیڈنٹ کی عزت تھی نہ کہ کسی کی ذاتی عزت - اگر مسٹر گاندھی کی عزت ڈکٹیٹر یا پریزیڈنٹ ہونے کی وجہ سے ہوتی تو ان کی جگہ جو بھی مقرر ہوتا اس کی بھی عزت کی جاتی اور اس کا بھی اسی طرح حکم مانا جاتا جس طرح مسٹر گاندھی کالوگ مانتے تھے لیکن چونکہ ان کی عزت ان کی ذات کی وجہ سے کی جاتی تھی اس لئے نتیجہ یہ ہوا کہ جب حکومت نے ان کو لوگوں سے علیحدہ کر دیا تو ان کے قائم مقام کو لوگوں میں وہ عزت حاصل نہ ہوئی جو ان کی تھی۔ اور ادھر کانگریس کی جمہوریت ٹوٹ چکی تھی اس لئے کانگریس کی طاقت تتر بتر ہو گئی ۔ اگر ان کی شخصیت نہ قائم کی جاتی اور اگر شخصیت قائم کی جاتی تو بطور عہدہ کے ہوتی تو ان کے علیحدہ ہوتے ہی دوسرا شخص ان کی جگہ مقرر کیا جاتا اور لوگ اس کو ماننے لگ جاتے ۔ مگر ایسا نہ کیا گیا جس کا نتیجہ خطرناک نکلا۔ چوتھی بات یہ ہوئی کہ جو لوگ تکالیف اٹھاتے اور مشکلات برداشت کرتے رہے تھے ان کو آہستہ آہستہ مشکلات بڑی نظر آنے لگیں۔ پہلے مسلمانوں نے خیال کیا کہ ہم سب کچھ قربان