انوارالعلوم (جلد 7) — Page 298
انوار العلوم جلدے ۲۹۸ پیغام صلح دیکھ رہے ہیں۔ اگر قومی جذبہ کوئی چیز نہ بھی ہو تو اس حقارت اور نفرت کو ہی دیکھ کر ہر ایک شخص کے دل میں یہ جذبہ پیدا ہونا چاہئے کہ فتنہ مٹ جائے مگر افسوس ہے کہ اس طرف کوئی توجہ نہیں کی جاتی اور یہ نہیں دیکھا جاتا کہ یہ فتنہ کیوں پیدا ہوا ہے وہ کیا اسباب ہیں جو اس کے پیدا ہونے میں کام کر رہے ہیں اور کس طرح یہ مٹ سکتا ہے ان باتوں کی طرف توجہ نہ کرنے کا یہ نتیجہ ہو رہا ہے کہ جو ذرائع اختیار کئے جا رہے ہیں وہ چونکہ ایسے نہیں ہیں جو فتنہ کو مٹانے کا موجب ہوں اس لئے فتنہ بڑھتا جا رہا ہے اور دیکھا گیا ہے کہ اس فتنہ کے اوقات میں بہت سی قومیں ہیں جو نا جائز فائدہ اٹھا رہی ہیں ۔ چنانچہ مردم شماری کے وقت جو کچھ ہوا ہے اگر اور حالات ہوتے تو اس کے متعلق ایک شور پڑ جاتا مگر آپس کی ناچاقی اور نا اتفاقی کی وجہ سے کسی کو اس کا خیال بھی نہیں آیا۔ ادنی اقوام پہلے یا تو علیحدہ دکھائی جاتی تھیں یا ہندوؤں میں شمار کی جاتی تھیں یہ بھی غلطی تھی کہ ان کو ہندوؤں میں شامل کیا جاتا تھا کیونکہ ان کا مذہب علیحدہ ہے اور ان کو علیحدہ ہی دکھانا چاہئے تھا مگر گذشتہ مردم شماری میں ادنی اقوام ساری کی ساری عیسائیوں میں دکھائی گئی ہیں اور سارے پنجاب میں صرف چند ایک اونی اقوام کے لوگ بتائے گئے ہیں۔ حالانکہ اڑھائی سو کے قریب چوڑھے قادیان میں ہی ہیں اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اور جگہوں میں بھی کسی قدر ہونگے مگر کچھ لوگوں نے اپنے ذاتی فوائد (کونسلوں میں انتخاب وغیرہ) کے لئے ان کو اپنے میں شامل کر لیا ہے۔ پس اس قسم کے شور و شر میں جو ہندو مسلمانوں میں برپا ہے دوسرے لوگ ایسے فائدے حاصل کر لیتے ہیں۔ غرض اس وقت ملک کا امن بالکل برباد ہو چکا اس عدم اتحاد کا ذمہ دار مذہب نہیں ہے۔ بھائی بھائی سے لڑ رہا ہے اور وہ لوگ جن کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ملک اور قوم کی ترقی کے لئے کوشش کرنی چاہئے تھی آپس میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ مذہبی اختلافات نہیں ہو سکتے کیونکہ مذہبی اختلافات کا تو یہ مطلب ہے کہ ایک مذہب والے خدا تک پہنچنے کا اور طریق سمجھتے ہیں اور دوسرے مذہب والے اور اگر خدا ہے اور یقینا ہے تو ممکن نہیں کہ خدا ایسا کرنے سے خوش ہے کہ ایک مذہب والے دوسرے مذہب والوں کو مارتے اور ان کے گلے کاٹتے پھریں۔ اگر خدا ہے اور میں یقین ہی سے نہیں بلکہ اپنے مشاہدہ سے کہتا ہوں کہ ہے تو اس کا یہ منشاء ہے کہ تمام انسان ایک دوسرے سے بھائی بھائی جیسا سلوک کریں اور بھائی بھائی جیسا تعلق رکھیں۔ میں یہ