انوارالعلوم (جلد 7) — Page 297
انوار العلوم جلدے ۲۹۷ پیغام صلح کی تھی مگر ان کا معمولی بات کہنا ایک زہر ہے جس کا دور دور تک اثر پھیلتا ہے اور پھر اس سے خطرناک قتل شروع ہو جاتا ہے جس سے لاکھوں اور کروڑوں انسان موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں ۔ تو فتنہ شروع میں چھوٹا نظر آتا ہے مگر اس کا انجام بہت بڑا ہوتا ہے اسی لئے اسلام نے قتل سے بھی منع کیا ہے مگر فتنہ سے اس سے بھی زیادہ زور کے ساتھ منع کیا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ عام طور پر لوگ قتل سے تو بچنے کی کوشش کرتے ہیں مگر فتنہ سے بچنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اگر ان کے سامنے کسی قتل کا ذکر کریں تو وہ کہیں گے کہ افسوس کہ لوگ اس قدر بگڑ گئے ہیں کہ اپنے بھائیوں کو قتل کرنے سے دریغ نہیں کرتے مگر خود فتنہ کے لئے تیار ہو جائیں گے اور نہ صرف تیار ہوں گے بلکہ فتنہ کھڑا کر دیں گے اس لئے ضرورت ہے کہ لوگوں کو فتنہ کی مضرت اور نقصان سے آگاہ کیا جائے کیونکہ جب لوگ یہ نہ سمجھیں کہ فتنہ قتل سے بھی بڑھ کر برا فعل ہے اس وقت تک امن نہیں ہو سکتا۔ ملک کی موجودہ حالت آج ہمارے ملک کی ایسی حالت اور ایسا رنگ نظر آرہا ہے کہ کوئی دو جماعتیں آپس میں محبت کرتی ہوئی نظر نہیں آتیں۔ آج سے پہلے محبت کی ایک لہر تھی جو ملک میں پھیلی ہوئی تھی۔ مسلمان ہندوؤں کو بھائی سمجھتے تھے اور ہندو مسلمانوں کو بھائی کہتے تھے سکھ دونوں کو بھائی قرار دیتے تھے مگر آج یہ حالت ہے کہ ہر قوم دوسرے کے خلاف کھڑی ہے اور ایک قوم دوسری کی دشمن بنی ہوئی ہے جس سے ملک کی ترقی بہت پیچھے جاپڑی ہے۔ کچھ لوگ ہمارے متعلق خیال کرتے ہیں کہ ہم فتنہ کا موجب ہیں اور ہم ہم فتنہ پرداز نہیں اتحاد و اتفاق میں رخنہ اندازی کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم سے زیادہ فتنہ کا کوئی دشمن نہیں ہے اور ہمارے دل سے فتنہ سے زیادہ کوئی چیز دور نہیں ہے ہم جس چیز کو برا سمجھتے ہیں وہ وہ ہے جس کے نتیجہ میں فتنہ پیدا ہوتا ہے ورنہ جس امر کے متعلق ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اپنے ملک اور اپنے وطن کے لئے مفید ہے اس کے لئے ہر قسم کی قربانیاں کرنے اور ہر طرح کی تکالیف اٹھانے کے لئے لبیک کہنے کو ہم تیار ہیں۔ یہ فتنہ جو اس وقت ملک میں پھیلا ہماری باہمی مخالفت سے غیر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ہوا ہے اس کا کیا نتیجہ ہوا ہے یہ کہ دشمن ہم پر ہنس رہے ہیں اور وہ جو ہمیں قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگے تھے وہ نفرت اور حقارت سے