انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 228

انوار العلوم جلدے ۳۲۸ تحریک شدھی ملکانا أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - هُوَ النَّاصِرُ مسلمانوں کا فرض ہے کہ اپنے ہمسایہ ہندوؤں کو تبلیغ اسلام کریں میں اس کام میں ہر طرح کی مدد دینے کے لئے تیار ہوں تحریر فرموده حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ۴۔ اپریل ۱۹۲۳ء) اس وقت یوپی میں جو راجپوتوں کے ارتداد کا سلسلہ شروع ہے میں سمجھتا ہوں کہ اس نے مسلمانوں کی آنکھوں پر سے پردہ اٹھا دیا ہے اور دو باتیں ان پر خوب اچھی طرح روشن ہو گئی ہیں۔ اول یہ کہ وہ اپنی حالت پر بلاوجہ اور بلا سبب خوش اور مطمئن تھے حالانکہ ایک کمزور سے کمزور دشمن ان کی غفلت اور دین سے بے پروائی سے فائدہ اٹھا کر ان کے گھروں کی دیواروں میں سیندھ لگا رہا تھا۔ دو تم یہ کہ تبلیغ اسلام کے فرض سے جو سب فرائض سے اہم تھا وہ بالکل غافل رہے ہیں اور ان کو جلد اس فرض کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔ اگر میری یہ رائے درست ہے تو ہمیں اس فتنہ پر خوش ہونا چاہئے کہ اس نے سوتوں کو جگا دیا اور اس فتنہ کو اس شعر کا مصداق سمجھنا چاہئے کہ ۔ ہر بلا کہیں قوم را حق داده اند قوم را داده اند زیر آن گنج کرم بنهاده اند ۳۳ مکانا راجپوتوں کی اصلاح کا کام بے شک ایک اہم کام ہے اور جس قدر بھی اس کی طرف توجہ کی جاوے کم ہے لیکن سب کے سب لوگ نہ اس کام کے لئے اپنے گھروں کو چھوڑ سکتے ہیں اور نہ سب چھوڑیں گے ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ لوگ اس امر کو کافی سمجھیں گے کہ انہوں نے اس