انوارالعلوم (جلد 7) — Page 203
انوار العلوم جلدے ۲۰۳ تحریک شد هی ملکانا ایسے اخراجات بھی کرتے ہوں گے جو وہ لوگ نہیں کرتے کیونکہ وہ تو ایسی جگہوں پر ہی خرچ نے کی ۔ کرتے ہیں جہاں نام و نمود ہو مگر ہمیں اس کی پرواہ نہیں ۔ ہم محض دین کیلئے خرچ کریں گے اور جس طرح دین کو فائدہ پہنچے گا اس طرح خرچ کریں گے اس لئے میرا اندازہ ہے کہ اخراجات کی پہلی قسط پچاس ہزار کی ہے۔ اگر دشمن کو اسی پر شکست ہو گئی تو نبھا۔ ورنہ اور پھر اور ۔ پھر اور روپیہ جمع کرنا ہو گا۔ انہی دنوں میں ہماری جماعت کی عورتوں کے ذمہ ۵۰ ہزار روپیہ لگایا گیا ہے جس کا زیادہ حصہ انہوں نے دے دیا ہے ۔ ہماری جماعت کے مرد بیشک بہت چندے دیتے رہتے ہیں لیکن مرد مرد ہی ہیں اور عورتیں عورتیں ہی۔ اس وقت میں مردوں اور عورتوں کا اخلاص کے لحاظ سے مقابلہ نہیں کر رہا بلکہ مالی لحاظ سے کر رہا ہوں اور اس میں کیا شک ہے کہ مرد اس لحاظ سے عورتوں سے بڑھے ہوئے ہوتے ہیں عورتوں کے پاس زیور ہوتے ہیں مگر وہ ماہوار آمدنی میں سے قلیل حصہ نکال کر بنتے ہیں لیکن مرد چونکہ آمدنی کے ذرائع رکھتے ہیں۔ اس لئے وہ عورتوں کی نسبت زیادہ دے سکتے ہیں۔ پس ہماری جماعت کو اس طرف بہت جلدی توجہ کرنی چاہئے۔ لندن میں مسجد بنانے کا کام ضروری تھا۔ لیکن اگر وہ ایک دو سال بعد میں بھی ہو جاتا تو کوئی ایسی بات نہ پیدا ہو سکتی تھی جو نقصان کا باعث ہوتی ۔ چنانچہ ایک سال کے بعد ہی مسجد کے لئے جگہ خریدی گئی مگر اس وقت جو کام در پیش ہے۔ یہ ایسا نہیں ہے کہ اسے پیچھے ڈال سکیں۔ یہ فوری ہونے کی وجہ سے نہایت اہم ہے۔ اس لئے اس کے لئے جتنی قربانی کی جائے ۔ تھوڑی ہے۔ پس گو اس کے مصارف وہ نہیں جو دوسرے لوگوں کے ہیں مگر باوجود اس کے ان سے کم ہمیں روپیہ کی ضرورت نہیں ہے۔ اس وقت پچاس ہزار کی رقم ایسی ہے جو کم از کم ہمیں چاہئے۔ میں نے اس خیال سے کہ مشورہ سے جو کام کیا جائے وہ اچھا ہوتا ہے چندہ کے سوال کو کا نفرنس پر اٹھا رکھا ہے کہ اس وقت باہر کے لوگ بھی آجائیں گے اور وہ بھی مشورہ میں شریک ہو جائیں گے۔ اس چندہ کے متعلق دو خیال ہیں۔ ایک تو یہ کہ خاص خاص لوگوں سے یہ چندہ جمع کیا۔ جائے اور دوسرا یہ کہ اس کو عام چندہ رکھا جائے ۔ کانفرنس کے موقع پر مشورہ کے بعد جس طرح خدا تعالی سمجھائے گا ہو گا لیکن فی الحال خرچ کے لئے جو ضرورت ہے اس کا فوری انتظام ہونا چاہئے۔ اور اخراجات کے علاوہ اس وقت جو ایک خرچ درپیش ہے وہ یہ بھی ہے کہ اس علاقہ کے کم