انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 202

انوار العلوم جلدے ۲۰۲ تحریک شدھی ملکانا جائے گی۔ ایسی حالت کے علاوہ کمانڈر کا لڑائی میں شامل ہونا نہایت خطرناک ہوتا ہے اس لئے میں تو وہاں نہیں جا سکتا۔ مگر میرے قلب میں جو جوش اور احساسات ہیں ان کو پورا کرنے کے لئے بھی تو کوئی موقع ہونا چاہئے اور وہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ مالی امداد سے اس کام میں حصہ لیا جائے۔ پس کئی ایسے لوگ جو طاقت نہیں رکھتے کہ وہاں جائیں کیونکہ ان کو مجبوریاں در پیش ہیں ۔ یا کئی ایسے لوگ جن میں ابھی اتنی ہمت نہیں کہ مال اور جان دونوں دے سکیں مگر تھوڑی سی قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور اس طرح وہ ان رجال میں شامل ہو سکتے ہیں جن کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ نُوحي اليهم ہم آپ ان پر وحی کرتے ہیں۔ گویا خدا تعالٰی آپ ان سے ہم کلام ہوتا ہے اور یہ کوئی معمولی شرف نہیں ہے۔ دیکھو لوگ دنیا کے بادشاہوں کے مخاطب بننے کے لئے اور یہ کہلانے کے لئے کہ فلاں سے بادشاہ نے کلام کی لاکھوں روپیہ خرچ کر دیتے ہیں۔ پھر کیا ہماری جماعت کے لوگ جو خدا تعالیٰ کے سچے پرستار ہیں وہ نُوحِي إِلَيْهِمُ میں شامل ہونے کے لئے روپوؤں کی کچھ پرواہ کریں گے۔ یا خدا کے مخاطب بننے کو معمولی بات سمجھیں گے۔ پس وہ لوگ جو وہاں مستقل طور پر کام کریں گے ان کے گزارہ کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے ۔ اور یہ معقول جماعت وہاں بھیجنی ہو گی کم از کم دس پندرہ آدمی تو ضرور ہوں گے ان کے اخراجات کیلئے کافی روپیہ کی ضرورت ہے۔ پھر انہوں نے رپورٹیں بھیجتی ہیں، تاریں دیتی ہیں، لٹریچر شائع کرنا ہے اس کے لئے بھی روپیہ کی ضرورت ہے ۔ یا جب ایسا ہو کہ بعض لوگ ہمارے ساتھ ملنے لگیں اور تعلیم اسلام کو قبول کر لیں تو ان کے ہاں مدر سے جاری کرنے ہوں گے اس کے لئے بھی خرچ کی ضرورت ہے۔ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ جو لوگ تعلیم اسلام کو مانیں ان کو یونہی چھوڑ کر چلے آئیں بلکہ ان کی تعلیم و تربیت کے لئے مدرسے جاری کرنے ہوں گے۔ پھر اخباروں میں مضامین شائع کرنے کے لئے لوگوں کے حالات دریافت کرنے کے لئے اخراجات کی ضرورت ہوگی۔ پس چونکہ ہمارا انتظام خدا تعالی کے فضل سے بہت وسیع ہو گا اس لئے ہمارا خرچ بھی زیادہ ہو گا۔ دوسرے لوگ تنخواہوں وغیرہ پر زیادہ روپیہ خرچ کریں گے مگر ان کے مبلغ تھوڑے ہوں گے اور ہم تنخواہوں پر روپیہ خرچ نہیں کریں گے لیکن ہمارے مبلغ چونکہ زیادہ ہوں گے اس لئے ہمیں جو انتظام کرنا پڑے گا اس پر زیادہ خرچ کرنا ہو گا۔ پھر ہمیں