انوارالعلوم (جلد 7) — Page 195
انوار العلوم جلدے ۱۹۵ تحریک شد هی ملکانا احمدی کا عیسائی سے مقابلہ ہوتا ہے اس نے حضرت صاحب سے درخواست کی تھی کہ آپ مقابلہ کریں اس پر آپ جھٹ کھڑے ہو گئے ۔ آپ نے اس وقت یہ نہ کہا کہ عیسائی ہمارے ایسے دشمن نہیں ہیں جیسے غیر احمدی ہیں بلکہ آپ مباحثہ کے لئے چلے گئے اور قادیان سے باہر چلے گئے۔ یہ تو اس وقت کا ذکر ہے جب مخالفت زوروں پر تھی اور دعوے کی ابتداء تھی لیکن اب اس وقت کا ذکر سناتا ہوں جب دعوی اپنے کمال کو پہنچ گیا تھا اور مخالفت کم ہو گئی تھی۔ عیسائیوں کو ۱۹۰۶ء میں خاص جوش پیدا ہوا اور انہوں نے بڑے زور سے تبلیغ شروع کی۔ بریلی میں کوئی شخص تھا۔ عیسائیوں نے يَنَا بِیعُ الاِسلام کتاب کے ذریعہ اسے خراب کرنا چاہا۔ اس کے دل میں اس کتاب کو پڑھ کر اسلام کے متعلق شکوک پیدا ہو گئے ۔ اس نے حضرت صاحب کو اطلاع دی اور لکھا کہ یہ کیسی باتیں ہیں جو اس کتاب میں درج ہیں۔ حضرت صاحب نے اس کو جواب نہ لکھا بلکہ اس کے جواب میں ایک کتاب لکھی جس کا نام چشمہ مسیحی ہے اور جس سے نبوت کے مسئلہ میں ہمیں بڑی مدد ملتی ہے۔ یہ کتاب اس غیر احمدی کو عیسائیت سے بچانے کے لئے لکھی گئی۔ پس حضرت مسیح موعود کا طریق عمل بتا رہا ہے کہ ہمارا ایسے موقع پر کیا طریق عمل ہونا چاہئے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہماری جنگ کا دائرہ حضرت مسیح موعود کو ماننے اور نہ ماننے کی حد تک ہی محدود نہیں ہو جاتا بلکہ اس سے وسیع ہے ۔ ہمارے سلسلہ کی بنیاد مسیح موعود سے ہی نہیں رکھی گئی بلکہ آج سے تیرہ سو سال قبل رکھی گئی تھی کیونکہ مسیح موعود کے مبعوث ہونے کی بنیاد اس وقت رکھی گئی تھی جب رسول کریم ﷺ نے دعوی کیا تھا۔ پس غیر احمدیوں کا اپنے ساتھ برا سلوک اور برا معاملہ دیکھ کر اور ان کی عداوت اور دشمنی کو دیکھ کر یہ مت سمجھو کہ جب ان پر تباہی اور بربادی آئے تو ہمیں چپ ہو کے بیٹھ رہنا چاہئے کیونکہ ان لوگوں کی یہ حالت ہی ہماری ترقی اور کامیابی کی بنیاد اور جڑ ہے اور ایسی صورت میں ہی ہماری کامیابی کے سامان ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص بڑا تیرنے والا ہے وہ سمندروں میں تلاطم کے وقت کودتا اور ڈوبنے والوں کو بچاتا ہو مگر ایک نا و مگر ایک نادان اسے جھوٹا اور دغا باز کہتا ہو اور گالیاں دیتا ہو اور کہے کہ اسے تو تیرنا آتا ہی نہیں اس وقت بادشاہ اس کی بکواس سنے اور کہے یہ شخص ایک محسن اور لوگوں کی جانیں بچانے والے کو بُرا بھلا کہہ رہا ہے اور اسے پکڑ کر سمندر میں پھینک دے اس وقت کیا اس تیراک کا یہ کام ہو گا کہ کے یہ چونکہ مجھے گالیاں دیتا تھا اس لئے میں اسے نہیں بچاؤں گا اگر وہ اس