انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 191

انوار العلوم جلدے ۱۹/ تحریک شد هی ملکانا بھی تو نہیں کیا کہ اسلام کا عملی اور روحانی رنگ تو الگ رہا ظاہری اسلام ہی سکھا دیتی اور شعائر اسلام کی موٹی موٹی باتیں ہی بتا دیتی ایسی قوم جس نے ادھر تو اپنے گھر سے ایسی بے رخی اور بے توجہی برتی کہ لاکھوں انسان جو مسلمان کہلاتے رہے مگر انہیں اسلام کی ہوا بھی تو چھو نہ گئی تھی ان کی طرف ذرا بھی توجہ نہ کی اور ادھر اس کے مولوی قادیان کو فتح کرنے کو آئے ہیں ۔ ہم آریوں سے جنگ کریں تو ہماری پیٹھ میں چھری مارنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ ہم اگر عیسائیوں سے مقابلہ کریں تو جھٹ ہمیں نقصان پہنچانے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ ہم اگر ممالک غیر میں تبلیغ اسلام کے لئے گئے تو جھٹ ہمارے خلاف ٹریکٹ لکھ کر شائع کرتے ہیں اور ہماری ہر تبلیغی کوشش میں رکاوٹ ڈالنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ غرض انہوں نے اپنے قول اور فعل سے ثابت کر دیا کہ وہ ہمیں آریوں ، عیسائیوں ، یہودیوں بلکہ دہریوں سے بھی بدتر سمجھتے ہیں۔ ایک احمدی جو بڑا مخلص احمدی ہے اور حضرت مسیح موعود کے پرانے دوستوں میں سے ہے جب وہ احمدی ہوا تو پہلے اس کا چال چلن کوئی اچھا نہ تھا اور اس کے باپ نے اس سے تعلق قطع کیا ہوا تھا مگر جب اسے کسی ذریعہ سے احمدیت کی طرف توجہ پیدا ہوئی تو اس کے باپ نے جو پہلے اس کی مالی مدد نہ کیا کرتا تھا اسے کہا میں تمہارے لئے ایک معقول رقم مقرر کر دیتا ہوں اسے خواہ تم شراب میں صرف کرو خواہ کنچنیاں نچوایا کرو یا کسی اور ایسے ہی کام میں استعمال کرو مگر احمدی نہ بنو۔ ایک اور جگہ ایک لڑکا احمدی ہونے لگا تو اس کے رشتہ داروں نے اسے کہا کہ اس سے تو یہ بہتر ہے کہ تم عیسائی ہو جاؤ اور احمدی نہ بنو۔ خدا کی قدرت وہ چونکہ احمدیت سے ابھی اچھی طرح واقف نہ ہوا تھا اس لئے احمدی ہونے سے تو رک گیا مگر عیسائی ہو گیا۔ اس وقت اس کے رشتہ داروں کو فکر پڑی اور وہ احمدیوں کے پاس آئے کہ اسے تم احمدی بنالو - احمدیوں نے اسے سمجھایا اور احمدیت کے مقابلہ میں عیسائیت کہاں ٹھر سکتی تھی وہ احمدی ہو گیا۔ غرض ان لوگوں کے طریق اور رویہ سے بخوبی ثابت ہو چکا ہے کہ وہ ہمیں ہزار درجہ دوسروں کی نسبت برا سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک کوئی آریہ ہو جائے عیسائی ہو جائے دہر یہ ہو جائے تو کوئی حرج نہیں مگر احمدی نہ بنے عیسائیوں اور آریوں کا کوئی کام ہو تو اس کے متعلق بڑے بڑے تعریفی مضامین لکھتے ہیں۔ دیا نند کے رشی نمبر میں بڑے بڑے مسلمان کہلانے والے لمبے چوڑے تعریفی مضامین لکھیں گے لیکن اگر کوئی کلمہ خیران کے منہ سے نہیں نکلتا تو حضرت مرزا صاحب اور آپ کے خدام کے