انوارالعلوم (جلد 7) — Page 190
انوار العلوم جلدے ١٩٠ تحریک شد هی ملکانا اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - هُوَ النَّاصِرُ راجپوتوں کے ارتداد کا فتنہ روکنے کی ہمیں کیوں ضرورت ہے؟ ۱۹۲۳ء کو بعد نماز عصر مسجد اقصیٰ میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے حسب ذیل ۱۴- مارچ تقریر فرمائی فرمائی حضور نے سورۃ کہف کا گیارہواں رکوع تلاوت کرنے کے بعد فرمایا :- میں نے آج تمام احباب کو خاص طور پر اطلاع کرا کے اس لئے جمع کیا ہے کہ اس فتنہ ارتداد کے متعلق جو ہندوستان میں جاری ہے بعض باتیں دوستوں کو بتانی چاہتا ہوں اور اس فتنہ کے متعلقہ مالی انتظام کے متعلق بھی بعض تجاویز پیش کرنی چاہتا ہوں۔ پیشتر اس کے کہ مالی تجاویز کو پیش کروں میں اس سوال کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں جو بعض لوگوں کے دل میں پیدا ہوا ہے اور جن حالات میں سے ہماری جماعت گزر رہی ہے ان کی وجہ سے پیدا ہونا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ کیا فتنہ ارتداد کے روکنے کی ہمیں ضرورت ہے؟ یہ سوال ہے جو بہت سے لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے اور ہمارے ساتھ غیر احمدیوں کا جو سلوک ہے اور جس رنگ میں وہ ہمارے ساتھ معاملہ کرتے ہیں اس کی وجہ سے قدر تا پیدا ہونا چاہئے۔ مرتد ہونے والے احمدی نہیں ہیں بلکہ وہ اس قوم مرتد ہونے والے احمدی نہیں ہیں سے تعلق رکھتے ہیں جس کی ذمہ داری اور جس کی امانت میں وہ سینکڑوں سال رکھے گئے مگر اس قوم نے باوجو د ادعائے اسلام کے ان کے متعلق اتنا