انوارالعلوم (جلد 7) — Page 180
انوار العلوم جلدے تحریک شد هی ملکانا اس وقت آریوں کو چھوڑ کر ہمارے پیچھے پڑ جاویں گے دوسرے موقع پر تو ہم ان کی مخالفت کو پر پشہ کے برابر بھی وقعت نہیں دیتے مگر اس موقع پر یہ امران کا اس قوم کے لئے تباہی کا موجب اور یہ ک اس کے لئے اور دشمنوں کے لئے شماعت کا باعث ہو گا۔ اس روک کا ذکر کر دینے کے بعد جو ہمارے راستہ میں حائل ہے میں سمجھدار طبقہ سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر وہ فی الواقع اس موقع کی اہمیت کو سمجھتے ہیں تو پھر انکو چاہئے کہ اس امر کا علاج کر لیں۔ اور یا پھر اگر مولوی صاحبان کی طرف سے کوئی فتنہ اٹھے تو سمجھ لیں کہ اس کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے ہم تو انشاء اللہ تعالی با وجود ان کی مخالفت کے بہت کامیابی حاصل کریں گے لیکن کام کو سخت نقصان ضرور پہنچے گا۔ اس کے بعد میں اس کام کی اہمیت کی اسلام سے محبت رکھنے والوں سے خطاب طرف تمام ان لوگوں کو توجہ دلانی چاہتا ہوں جو اسلام سے محبت رکھتے ہیں۔ ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ قوم جس پر اس وقت آریوں کے دانت ہیں گو ساڑھے چار لاکھ کے قریب ہے لیکن اس قوم کے پیچھے ایسی ہی حالت کے ایک کروڑ آدمی اور ہیں جو جلد یا بدیران مرتدین کی اقتداء کریں گے ۔ پس یہ مت خیال کرو کہ ساڑھے چار لاکھ آدمی اسلام سے مرتد ہونے لگا ہے بلکہ جیسا کہ ہماری تحقیق سے معلوم ہوتا ہے یہ سلسلہ بہت وسیع ہے اور ایک کروڑ آدمی پر اس حملہ کی زد پڑتی ہے۔ اس کی تفصیلات میں اس وقت پڑنا خود اس کام کے لئے مضر ہے مگر خطرہ نہایت سخت ہے اور اگر آج کچھ نہ کیا گیا تو کل اس کا علاج بالکل نا ممکن ہو جائے گا۔ مسلمان یہ نہ خیال کریں کہ نہایت آسانی سے وہ ان قوموں کو ارتداد سے روک لیں گے۔ سولہ سال سے ان قوموں میں بعض نہایت نا واجب اور مخفی ذرائع سے کام کیا جا رہا تھا اور اب ان قوموں کے دماغ میں ہندو خیالات موجزن ہو رہے ہیں۔ جس طرح ایک پیدائشی مسلم کی نسبت ایک نو مسلم میں جوش زیادہ ہوتا ہے اسی طرح اس قوم میں سخت جوش ہے ۔ جب تک ایک لمبی اور باقاعدہ جنگ نہ کی جائے گی (سعی اور تبلیغ کی نہ کہ تلوار کی) اس وقت تک ان علاقوں میں کامیابی کی امید رکھنا فضول ہے۔ اس کام پر روپیہ بھی کثرت سے خرچ ہو گا اور جن لالچوں سے ان لوگوں کو قابو کیا جا رہا ہے ان کا مقابلہ بھی ضروری ہو گا۔ روپیہ کے ساتھ روپیہ کے دیانتدارانہ طور پر خرچ ہونے کا بھی سوال ہے۔ اس کا بھی نہایت مناسب انتظام کرنا ضروری