انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 172

انوار العلوم جلدے ۱۷۲ تحریک شدھی ملکانا اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنَصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ ساڑھے چار لاکھ مسلمان ارتداد کے لئے تیار ہیں وو وکیل امر تسر کی دعوت کا جواب ملک کے گوشہ گوشہ میں جو آواز آج گونج رہی ہے اور جس سے سب مسلمان کہلانے والوں کے دل پاش پاش ہو رہے ہیں اور حواس پراگندہ ہیں اس سے مجھے اور احمدی جماعت کو نا واقفیت نہیں ہو سکتی کیونکہ ہمارا تو کام ہی دن رات تبلیغ اسلام ہے۔ مگر چونکہ ہم دوسرے لوگوں سے امداد طلب نہیں کیا کرتے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ خواہ اسلام کے لئے کیسا ہی مفید معاملہ ہو ہمارے ہاتھوں سے اس کا سرانجام پانا ہمارے بھائیوں کو شاق گذرا کرتا ہے اور احمدیت اور غیر احمدیت کا سوال جھٹ درمیان میں آکو دتا ہے اس لئے میں نے مناسب نہیں سمجھا اور نہ ضرورت سمجھی کہ اس فتنہ کے متعلق جو کچھ ہم کوشش کر رہے تھے اس کا اعلان کریں لیکن چونکہ روزانہ "وکیل" امرتسر کے ۸ - مارچ ۱۹۲۳ء کے پرچہ میں زیر عنوان "علمائے اسلام کہاں ہیں ؟ ایک مضمون شائع کیا گیا ہے اور اس میں مسلمان لیڈروں کو اس فتنہ ارتداد کے انسداد کی طرف توجہ دلاتے ہوئے مجھے بھی مخاطب کیا گیا ہے اس لئے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس اعلان کے ذریعہ سے اس شبہ کا ازالہ کردوں جو ایڈیٹر صاحب "وکیل" کے دل میں پیدا ہوا ہے اور ساتھ ہی بعض ان باتوں کا بھی جواب دیدوں جو روزانہ وکیل نے بلا کافی غور کئے کے ہماری طرف منسوب کر دی ہیں ۔ " مجھے جو نہی یہ بات معلوم ہوئی کہ ایک قوم کی فتنہ ارتداد کے متعلق ہماری کوشش قوم ارتداد کے لئے تیار ہے اس وقت میں نے